Al-Risala · November 2006 · page 25

مسلمان مسئلہ کیوں بن گئے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵

خلافت راشدہ کے بعد جب بنوامیہ کی سلطنت شروع ہوئی تو عبداللہ بن زبیر نے اس کے خلاف خروج کیا۔ اس کے نتیجہ میں عبداللہ بن زبیر اور بنوامیہ کے گورنر حجاج بن یوسف کے درمیان جنگ پیش آئی۔ عبداللہ بن عمر ایک سینئر صحابی کی حیثیت سے مکہ میں موجود تھے، مگر اُنھوں نے اس جنگ میں شرکت نہیں کی۔ عبداللہ بن زبیر کے کچھ ساتھی عبداللہ بن عمر کے پاس گئے اور اس جنگ میں انھیں شرکت کی دعوت دی۔ اُن لوگوں نے قرآن کی آیت قتال فتنه (الانفال ۳۹) کا حوالہ دے کر کہا کہ ہماری یہ جنگ قرآن کے اس حکم کے تحت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا کہ تم لوگ غلط کہتے ہو۔ فتنہ کے خلاف جنگ سے مراد مذہبی تشدد کے خلاف جنگ تھی۔ ہم نے لڑ کر اس فتنہ کو ختم کر دیا۔ اب تم لڑ رہے ہو تا کہ جو فتنہ ختم ہو چکا ہے وہ دوبارہ نئے نام کے ساتھ لوٹ آئے (فتح الباری، جلد ۸ ، صفحہ ۱۶۰،۳۲)

تاہم حضرت عبداللہ بن عمر کے اس احتجاج کے باوجود امت کے اندر تشدد کا طریقہ جاری رہا، یہاں تک کہ وہ امت کی پوری تاریخ پر پھیل گیا۔ قتال فتنہ کے حکم سے مراد دراصل یہ تھا کہ مذہبی تشدد کے دور کو ختم کر کے مذہبی آزادی کا دور لایا جائے ۔ مگر بعد کے دور میں اُس کو سیاسی معنی میں لے لیا گیا۔ اب اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ دوسری قوموں کے اقتدار کو ختم کر کے مسلمانوں کا اقتدار دنیا میں قائم کیا جائے ۔ یہ قرآنی حکم کے معاملے میں ایک انحراف تھا، تاہم یہ انحراف عمل میں آیا، حتیٰ کہ وہ پوری مسلم تاریخ پر چھا گیا۔

سیاسی حوصلہ مندوں کو یہ نظریہ بہت موافق نظر آتا تھا۔ چنانچہ اُنھوں نے بہت جلد پورے زور کے ساتھ اس کو پکڑ لیا۔ یہ رجحان اتنا زیادہ بڑھا کہ اسلام عملاً کشور کشائی اور ملک گیری کا ایک مذہب بن گیا اور اسی کے ساتھ تشدد کا بھی ۔ کیوں کہ کشور کشائی اور ملک گیری کی مہم تشدد کے بغیر چلائی نہیں جا سکتی۔ سیاسی حوصلہ مندوں کے اس عمل میں چند چیزوں سے خصوصی نظریاتی مدد ملی۔ اس طرح اُنھیں اپنی عملی سیاست کے لیے نظریاتی جواز بھی حاصل ہو گیا۔

ایک یہ کہ قدیم زمانہ کے رواج کے مطابق، اسلام کی تاریخ سیاسی نمونہ پر لکھی گئی ۔ خلافت

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page