Al-Risala · February 2006 · page 5

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۵

تحریک الرساله کے آرگن کے طور پر ماہنامہ الرسالہ ۱۹۷۶ سے برابر نکل رہا ہے۔ جو لوگ اس کو پڑھتے رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ الرسالہ مشن مکمل طور پر مثبت ذہن کے تحت شروع ہوا۔ وہ ہر معاملے میں لوگوں کو مثبت رہنمائی دیتا رہا ہے۔ ۱۹۷۶ میں جب ماہنامہ الرسالہ جاری ہوا تو اُس وقت تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ مایوسی کی بولی بول رہے تھے۔ ہر طرف یہ تاثر دیا جا رہا تھا گویا کہ اُمت کا ستارہ غروب ہو چکا ہے اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ ان حالات میں الرسالہ روشنی کی کرن بن کر نمودار ہوا۔ چنانچہ اس کے پہلے شمارے میں اس کے صفحۂ اول پر یہ الفاظ درج تھے: ’’سورج پچھم میں غروب ہوتا ہے تاکہ وہ دوبارہ پورب سے نئی شان کے ساتھ طلوع ہو۔ یہ ایک روشن نشانی ہے جو آسمان پر ظاہر ہو کر ہر روز ہمیں بتاتی ہے کہ خدا نے اپنی مملکت کا نظام کس طرح بنایا ہے۔ یہ اس حقیقت کا ایک کائناتی اعلان ہے کہ خدا کی اس دنیا میں کوئی ’’غروب‘‘ آخری نہیں ۔ ہر غروب کے لیے ایک نیا طلوع مقدّر ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر حوصلہ ہو۔ غروب کا واقعہ پیش آنے کے بعد وہ از سر نو اپنی جد و جہد کا منصوبہ بنائے ۔ اور زندگی کی شاہ راہ پر دوبارہ اپنا سفر شروع کر دے۔ ‘‘ (اکتوبر ۱۹۷۶) میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک مکتب میں ہوئی۔ اس مکتب کے واحد استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی (وفات ۱۹۷۲) تھے۔ اس مکتب میں میں نے قرآن اور اردو کے ساتھ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اُس وقت ہمارے خاندان میں انگریزی تعلیم کا کافی چرچا ہو چکا تھا۔ میرے چچازاد بھائی اقبال احمد سہیل (وفات ۱۹۵۵) سرسید کے قائم کردہ علی گڑھ کالج کے اُس اوّلین بیچ میں شامل تھے جس نے پہلی بار وہاں سے ایم۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس خاندانی ماحول کے تحت، مجھے انگریزی تعلیم کی طرف جانا چاہیے تھا۔ مگر میرے کسی منصوبے کے بغیر حالات نے میری زندگی کا رُخ بدل دیا۔ میرے والد میرے بچپن (۱۹۲۹ء) میں انتقال کر چکے تھے۔ میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں (وفات ۱۹۳۸ء) کی حیثیت میرے خاندانی بزرگ کی تھی۔ اُن کو یہ شوق تھا کہ خاندان میں ایک شخص عالم دین بنے۔ چنانچہ انھوں نے اصرار کر کے ۱۹۳۸ء میں مجھے مشہور عربی درس گاہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page