Al-Risala · November 2006 · page 26

مسلمان مسئلہ کیوں بن گئے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶

عباسیہ سے لے کر بعد کے زمانہ تک جتنی بھی تاریخیں لکھی گئیں۔قدیمپیٹرنمیںجنگوفتحاورسیاسیمعرکہآرائیوںکوسبسیزیادہاہمسمجھاجاتاتھااور انھیںکوتاریخیکتابوںمیںریکارڈکیاجاتاتھا۔

انسیایحوصلہمندوںکوژنچیزوںسینظریاتیتائیدملیاُنمیہسیک،تاریخنویسیکا یہقدیمطریقہتھا۔یہمتمامتاریخیںحقیقتامسلمبادشاہوںکیتاریخیںتھیں۔اُنیکاقائمکردہہرسلطنت خاندانیخلافت(dynasty)تھی۔مگرانتاریخوںکو’’اسلامیتاریخ‘‘کانامدیگیا۔اسطرح مسلمخاندانوںکییہحکومتیںاسلامیکحومتیںقرارپائیں۔

اسسلسلہمیںدوسرینظریاتیتائیدفقہسحاصلوئی۔جیساکہمعلومہے،یفقہعباسی سلطنتکیدورمیںمرتبہوئی۔اسمیںوقتکرُحجانکےمطابق،نہکہقرآناورسنتکیتعلیم کےمطابق،ساریدنیاکوہعلاقوںمیںتقسیمکردیاگیا،دارالاسلاماوردارالحرب۔ دارالاسلامسیمرادووزیمینیعلاقےتھےجہانمسلمانوںکیحکومتائم تھی۔اوردارالحرب سیمرادووعلاقےتھےجہانمسلمانوںکیحکومت’’ابھی‘‘قائمنہیںہوئی۔یہفرضکرلیاگیاکہیتمام غیرمسلمعلاقےگوایامکانیطورپرمسلمانوںسحالتجنگ(potentially at war)میںہیں،اس لیےانکوڈارالحربکانامدیگیا۔

دارالحرباوردارالکفرکیاصطلاحیںبلاشبہاجتہادیہیں،وہکسینصصریحپرمنبینہیںجن لوگوںنےاپنےاجتہادسیہاصطلاحیںوضعکیںوہایکحدیثکےمطابق،اسپرتیقیناجتہادیکخطا کاجرپائینگے،مگرانکودرستاجتہادکادرجہنہیںدیاجاسکتا۔حقیقتایہہےکہبلادکیتقسیمکیلئےصحیح طورپرڈوہیاصطلاحیںہیں،دارالدعوہ،اوردارالاسلام۔جہاںاسلامکاحکمقائمہوجائےو دارالاسلامہےاورجہاںایسانہہووہدارالدعوہہے۔انکےسواکوئیتیسریاورچوتھیصطلاحاسلام کیتعلیمکےمطابقنہیں۔

اسمعاملہمیںدوراولکولےلیجئے۔نبوتکےابتدائیزمانہمیںمکہاورمدینہاورڈوسرےتمام

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page