Al-Risala · November 2006 · page 27

Every human being is potentially Muslim.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷

علاقے ایک ہی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سب کے سب دار الدعوہ تھے۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا تو اس کے بعد مدینہ دار الاسلام بن گیا اور دوسرے علاقے، بشمول مکہ، دار الدعوہ کی حیثیت سے قائم رہے۔ اسی طرح عرب کے باہر کے ملکوں کی حیثیت بھی دار الدعوہ کی تھی۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ملکوں کے حکمرانوں کو دعوتی مکاتیب روانہ کئے ۔

بلاد کی اس تقسیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دار الاسلام کے علاوہ جو علاقے ہیں ان کو بھی سیاسی معنوں میں دار الاسلام بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس قسم کا نظریہ سرا سر بے بنیاد ہے۔ دیگر علاقوں کے لیے اہل اسلام کی ذمہ داری صرف دعوت ہے، اول بھی اور آخر بھی۔ پر امن دعوت کے سوا کسی بھی قسم کی دوسری کارروائی اہل اسلام کے لیے جائز نہیں۔

فقہ کی کتابوں میں، اور دوسرے موضوعات کی کتابوں میں عام طور پر بلاد الكفر اور بلاد الكفار کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہ اسلوب یقینی طور پر درست نہیں۔ غیر مسلم ملکوں کا ذکر ان کے اپنے معروف نام کے ساتھ کیا جانا چاہئے نہ کہ بلاد الكفر یا بلاد الكفار کے الفاظ میں۔ اس طرح کے معاملات میں ہمیں خود ساختہ طریقہ اپنانے کے بجائے انٹرنیشنل آداب کو اپنانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ ہر انسان کی جو فطرت ہے وہی خود اسلام بھی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر انسان امکانی طور پر مسلم ہے:

Every human being is potentially Muslim.

ایسی حالت میں ہمارا نقطہ نظر دوسرے انسانوں کے بارے میں وہی ہونا چاہئے جو خود مسلمانوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ سارے انسان امکانی طور پر مسلم ہی ہیں۔ اسلام کی پوری تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے۔

اسی طرح دشمن اور دوست کی تقسیم بھی عمومی طور پر درست نہیں۔ ایک گروہ اگر یکطرفہ طور پر اہل اسلام پر حملہ کر دے تو ایسی حالت میں اہل اسلام وقتی طور پر دفاع کی ذمہ داری کو پورا کریں گے۔ مگر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page