Al-Risala · November 2006 · page 28

Every human being is potentially Muslim.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸

بظاہر زیادتیوں کے باوجود، کسی گروہ کو مستقل طور پر دشمن سمجھ لینا درست نہیں۔ قرآن کے مطابق، اہل اسلام کو چاہیے کہ وہ اپنے دشمن کو بھی امکانی طور پر اپنا دوست سمجھیں، وہ یکطرفہ حسنِ اخلاق کے ذریعہ اپنے دشمن کو اپنا دوست بنانے کی کوشش کریں (حم السجدہ ۳۴)

ہجرت کے بعد مدینہ جب دار الاسلام بن گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مکہ دار الکفر یا دار الحرب ہو گیا۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ اگر بالفعل دار الاسلام تھا تو مکہ بالقوہ دار الاسلام، جیسا کہ بعد کی تاریخ سے ثابت ہوا۔ بلاد کی تقسیم کے بارے میں یہی صحیح اسلامی نقطۂ نظر ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ بلاد کی یہ تقسیم مکمل طور پر غیر سیاسی معنوں میں ہے نہ کہ سیاسی معنوں میں۔ دوسرے اسباب کے علاوہ یہ دو اسباب، فقہ اور تاریخ، گویا اس مسلم سیاست کے لیے نظریاتی تائید کے ہم معنی بن گئے۔

انیسویں صدی کے آخر میں قدیم طرز کی مسلم سلطنتوں کا دور ختم ہو گیا۔ حالات کی اس تبدیلی کے بعد، مسلم دنیا میں یہ ذہن پیدا ہونا چاہیے تھا، انھیں اب نئے حالات کے مطابق، از سر نو اپنی تیاری کرنا ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ عین اُس وقت مسلمانوں میں وہ گروہ پیدا ہوا جس کو عام طور پر انقلابی مفکرین کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے قدیم جارحانہ سیاست کے حق میں ایک اور نظریاتی تائید فراہم کر دی۔ یہ اسلام کی سیاسی تشریح تھی۔ ان لوگوں نے قرآنی آیتوں کی نام نہاد انقلابی تشریح کر کے بتایا کہ اسلام کا مقصد ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کرنا ہے۔ کسی مسلمان کا اسلام اُس وقت تک مکمل ہی نہیں، جب تک وہ ایسا نہ کرے کہ یا تو اسلام کی حکومت بالفعل قائم کر دے یا اسی راہ میں وہ اپنے آپ کو قربان کر دے۔

اس جدید تشریح نے مذکورہ قسم کی غلطی کو عملی انحراف سے بڑھا کر عقیدہ کا درجہ دے دیا اور اس طرح سیاسی تشدد کو یہ حیثیت دے دی کہ وہ کسی مسلمان کے لیے جنت کا سب سے زیادہ یقینی ٹکٹ ہے، اسلام کے نام پر تشدد کرنے والے مرد اور عورت سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ فارسی کی ایک مثل ہے کہ پدرم سلطان بود۔ میرا باپ بادشاہ تھا۔ مذکور تفصیلات کو سامنے رکھا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page