Al-Risala · November 2006 · page 29

Every human being is potentially Muslim.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹

جائے تو یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ مسلمانوں کی ہزار سال کی تاریخ کا خلاصہ دو جملوں میں یہ ہے کہ دور بادشاہت میں مسلمان اس احساس میں جی رہے تھے کہ پدرم سلطان است، اور دور بادشاہت کے خاتمہ کے بعد اب وہ اس احساس میں جی رہے ہیں کہ پدرم سلطان بود۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے دور میں وہ دوسری قوموں سے اس لیے لڑ رہے تھے کہ وہ ان کی حاکمانہ حیثیت کو تسلیم کریں، اور اب اس لیے لڑ رہے ہیں کہ وہ اُن کی کھوئی ہوئی حاکمانہ حیثیت کو اُن سے واپس لیں۔ یہی دو جملوں میں ہزار سالہ مسلم تاریخ کا خلاصہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ جب فتنہ کا خاتمہ ہوا، دوسرے لفظوں میں یہ کہ جب مذہبی تشدد کا دور ختم ہوا اور مذہبی آزادی کا دور شروع ہوا تو اب ضرورت تھی کہ امن کے نظریہ پر اسلام کی پرامن آئیالوجی کو واضح کیا جائے۔ یہ بتایا جائے کہ اسلام کا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام کا اصل کنسرن صرف مذہبی آزادی کی حالت کا قائم ہونا ہے، اور وہ اب پوری طرح قائم ہو چکی ہے۔ اس لیے اب کرنے کا کام یہ ہے کہ مذہبی آزادی کو استعمال کر کے دعوت و تعمیر کے کام کی پرامن منصوبہ بندی کی جائے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔

میرے علم کے مطابق، خلافت راشدہ کے بعد صرف دو مسلم شخصیتیں ہیں جنھوں نے اس راز کو سمجھا اور اس کا اعلان کیا۔ ایک، عبداللہ بن عمر صحابی، اور دوسرے، عمر بن عبدالعزیز تابعی۔ مگر یہ نظریہ عمومی قبولیت حاصل نہ کر سکا۔ وہ ایک انفرادی اظہار خیال بن کر رہ گیا۔

حضرت عبداللہ بن عمر نے ابن زبیر کے زمانہ میں جو بات کہی تھی، اس کا مطلب یہ تھا کہ قرآن میں فتنہ سے مراد مذہبی تشدد تھا، وہ اب ختم ہو گیا۔ اس لیے اب کسی اور چیز کو فتنہ بتا کر اس کے خلاف لڑائی چھیڑنا عملاً فتنہ کو نئے عنوان سے واپس لانے کا سبب بن جائے گا۔ یعنی آپ غیر اسلامی سیاست کو ختم کرنے کے نام پر حکمراں سے جنگ چھیڑیں گے۔ چونکہ آپ کی یہ جنگ اسلام کے نام پر ہوگی اس لیے حاکم آپ کی تشریح کے مطابق، اسلام کو اپنا حریف سمجھ لے گا اور غیر ضروری طور پر یہ کرے گا کہ جو لوگ اسلام کے نام پر تحریک اٹھائیں، اُنھیں اپنے لیے سیاسی خطرہ سمجھ کر وہ انھیں کچل دے۔ اس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page