الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۶
مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں مستطیع طالب علم کی حیثیت سے داخل کیا۔ آخر تک میری تعلیم کے تمام اخراجات وہ تنہا ادا کرتے رہے۔
عربی درس گاہ کی یہ تعلیم میری زندگی کا اہم ترین واقعہ تھا۔ اس تعلیم کے بغیر ناممکن تھا کہ میں وہ دینی مشن شروع کروں جو میں نے بعد کو شروع کیا۔ اس مدرسے سے مجھ کو جو دینی اور علمی فائدے ہوئے وہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔ یہاں میں صرف ایک واقعے کا ذکر کروں گا جو میری شخصیت کی تعمیر میں بے حد اہم ثابت ہوا۔ غالباً ۱۹۴۰ء کا واقعہ ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی (وفات ۱۹۹۸) اُس وقت مدرسۃ الاصلاح کے صدر مدرس تھے۔ ایک دن کلاس میں قرآن کی یہ آیت زیر بحث آئی: وإلى الإبل كيف خلقت (الغاشیہ ۱۷) آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اُنھوں نے طلباسے ایک سوال کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوئے۔ کلاس میں اُس وقت بیس سے زیادہ طالب علم تھے مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ اس سوال کا جواب نہ دے سکا۔ اس کے بعد اُنھوں نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے عربی مقولہ: لا أدرى نصف العلم (میں نہیں جانتا آدھا علم ہے) کا فلسفہ بیان کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اپنے نہ جاننے کو جاننا، علمی سفر کی پہلی منزل ہے۔ آدمی اگر اپنی لاعلمی سے بے خبر ہو تو اس کے اندر جاننے کا شوق پیدا نہیں ہوگا، وہ بدستور بے خبر پڑا رہے گا۔ انھوں نے طلباسے کہا کہ آپ لوگ اونٹ کے سم کے بارے میں اپنے ’’لاادری‘‘ سے بے خبر تھے، اگر آپ اس معاملے میں اپنے ’’لاادری‘‘ کو جانتے تو اونٹ کو دیکھ کر آپ اس کو معلوم کر لینیتے۔ لیکن اپنے ’’لاادری‘‘ کو نہ جاننے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بار بار اونٹ دیکھنے کے باوجود آپ اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر رہے۔ میری ابتدائی زندگی کا یہ واقعہ گویا میرے تفگیری سفر کے لیے ایک رجحان ساز (trend setter) واقعہ بن گیا۔ بعد کو جب انگریزی سیکھنے کے بعد میں نے برٹرینڈ رسل کی کتاب ول ٹو ڈاؤٹ (Will to Doubt) پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ وہی چیز تھی جس کو سائنس کی تاریخ میں روح تجسس (spirit of enquiry) کہا جاتا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues