Al-Risala · November 2006 · page 35

دعوتِ ایمپائر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵

دعوتِ ایمپائر

لکشمی نواس متّل ۱۹۵۰ میں راجستھان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے لندن میں اسٹیل انڈسٹری شروع کی۔ اس میدان میں انھوں نے بہت ترقی کی ، یہاں تک کہ اب ان کی متّل انڈسٹری (Arcelor Mittal) دنیا کی سب سے بڑی اسٹیل انڈسٹری بن گئی ہے۔ انھوں نے اس میدان میں ساری دنیا میں نمبر ایک پوزیشن حال کرلی۔

لکشمی متّل نے دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کو انٹرویو دیا ہے جو اخبار کے شمارہ ۲ جولائی ۲۰۰۶ میں شائع ہوا ہے۔ اس انٹرویو کا عنوان یہ ہے :

Mittal has a message for India: Go ahead and conquer the world. میں نے اس رپورٹ کو اخبار میں پڑھا تو اچانک میرے ذہن میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ مادی انڈسٹری کے میدان میں ایک آدمی اس قسم کی بڑی بڑی بات بولتا ہے لیکن مذہب کے میدان میں کسی کے پاس بولنے کے لیے اس قسم کے الفاظ نہیں۔ حالاں کہ مذہب کے اندر دلوں کو جیتنے کی طاقت ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ :

Go ahead and conqure the people of the world.

اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ آج مذہب کے نام سے لوگوں کو صرف اس کی ایک کم تر صورت (reduced form) لوگوں کے سامنے ہے۔ متل،اً مسٹر لکشمی مثل ، اسٹیل کو ایک عالمی انڈسٹری کا موضوع سمجھتے ہیں۔ جب کہ مذہب کا تصور ان کے ذہن میں یہ ہے کہ کچھ توہماتی عقائد کو مان لیا جائے ، اور کچھ بے روح رسموں کو وقتی طور پر ادا کر لیا جائے۔ اس قسم کے کم تر مذہب کے لیے کسی کے دل میں یہ جذبہ نہیں ابھر سکتا کہ وہ اس کو لے کر اٹھے اور عالمی سطح پر کوئی فاتحانہ کارنامہ انجام دے سکے۔

اس معاملے میں مسلمانوں کا حال بھی دوسروں سے کچھ مختلف نہیں۔ مسلمان جس اسلام کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page