Al-Risala · November 2006 · page 36

Go ahead and conqure the people of the world.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶

اعتقادی طور پر مانتے ہیں وہ مکمل طور پر ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تمام انسانوں کے دلوں کی آواز ہے۔ وہ ہر انسان کی روحانی تلاش کا جواب ہے۔ وہ انسان کے لیے جنت کا دروازہ کھولنے والا ہے۔ اس میں ذہنی انقلاب کا پورا سامان موجود ہے۔ اسلام کی یہی خصوصیات ہیں جس کی بنا پر پیغمبرِ اسلام نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنے عرب مخاطبین سے کہا تھا:

كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب وتدين لكم بها العجم (البداية والنهاية، جلد ۲ ، صفحہ ۱۲۳) یعنی میں تم سے صرف ایک بات کا مطالبہ کرتا ہوں، اگر تم اس کو مان لو تو تم سارے عرب کے مالک بن جاؤ گے اور عجم تمھاری اطاعت کریں گے۔

مگر آج کے مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتے۔ اور اگر بالفرض وہ ان الفاظ کو دہرائیں تو سننے والا اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ کیوں کہ آج اسلام کے نام سے جو مذہب لوگوں کے سامنے ہے وہ اُسی طرح ایک بگڑا ہوا مذہب ہے جس طرح دوسرے اہل مذاہب نے اپنے مذہب کو بگاڑ رکھا ہے۔ مسلمانوں کے پاس عملاً جو اسلام ہے، وہ اسلام ایک کم تر فارم (reduced form) ہے۔ یہ کم تر درجے کا اسلام نہ تو خود مسلمانوں میں کوئی جوشِ عمل پیدا کر سکتا ہے، اور نہ اس قابل ہے کہ اس کو اہل دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور وہ اس سے متاثر ہو کر اس کو اپنا دین بنا لیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page