Al-Risala · November 2006 · page 37

فرق نہ سمجھنا

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

فرق نہ سمجھنا

ایک دن کا واقعہ ہے۔ میں شہر سے دور ایک کھلے مقام پر بیٹھا ہوا تھا۔ صبح سویرے کا وقت تھا۔ چاروں طرف سرسبز مناظر تھے۔ تازہ اور خالص ہوا کے نرم جھونکے آ رہے تھے۔ اس بے آمیز ہوا میں سانس لینا نہایت خوش گوار معلوم ہو رہا تھا۔ میرے اوپر ایک سرور کی کیفیت طاری تھی۔ مجھے شبلی نعمانی کا ایک شعر یاد آيا جس کو انھوں نے اسی قسم کے فکری ماحول سے متاثر ہو کر کہا تھا: ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی اُس وقت میرے ساتھ یونیورسٹی کے ایک استاذ وہاں موجود تھے۔ میں نے کہا کہ جس دنیا میں اتنی خوشگوار ہوا موجود ہو وہاں کسی کو شراب پینے کی کیا ضرورت ۔ میری بات سن کر انھوں نے کہا: کیا معلوم، وہ لوگ دونوں چیزیں لے رہے ہوں۔

میں نے کہا کہ آپ کا یہ جملہ گریمر کے لحاظ سے درست ہے، مگر وہ معنی کے اعتبار سے درست نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے شراب اور ہوا دونوں کو برابر قرار دے دیا۔ حالاں کہ ہوا ایک صحت مند انتخاب (healthy option) ہے۔ جب کہ شراب ایک مہلک چیز ہے، وہ سرے سے کوئی صحت مند انتخاب (option) ہی نہیں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس دنیا میں ایسی چیزیں موجود ہوں جو کسی نقصان کے بغیر آپ کو سروردے سکتی ہیں تو ایسی چیز میں سرور تلاش کرنے کی کیا ضرورت جس میں اگر بالفرض کوئی وقتی سرور ہو تب بھی وہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ آدمی کی صحت کو تباہ کر دے۔ اکثر حالات میں فکری غلطی کا سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق نہیں کر پاتا۔ وہ صحت مند مشغولیت اور مضر مشغولیت میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے دونوں کو برابر کا درجہ دے دیتا ہے، اور مضر چیز میں بھی اُسی طرح مشغول ہو جاتا ہے جس طرح اُسے صحت مند چیز میں مشغول ہونا چاہیے۔ وہ اُس وقت تک متنبہ نہیں ہوتا جب تک اُس کے غلط انتخاب کا بُرا نتیجہ آخری طور پر اس کے سامنے نہ آ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page