الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۷
ہے۔ چنانچہ روح تجسس میری طبیعت ثانیہ بن گئی۔ ہر چیز کی اصل کو جاننا، حتیٰ کہ معلوم چیز کو بھی از سر نو دریافت کرنا، یہ میرے ذہن کا مستقل حصہ بن گیا جو ساری عمر یکساں شدت کے ساتھ جاری رہا۔ اسی تحقیق تجسس کا نتیجہ تھا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کے فضل سے، ایسی چیزیں دریافت کیں جو معلوم طور پر پوری تاریخ میں دریافت نہیں ہوئی تھیں، نہ مسلم تاریخ میں اور نہ وسیع تر معنوں میں بشری تاریخ میں۔ مدرسی کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میرا تعلیمی سفر ختم نہیں ہوا۔ اس کا ابتدائی محرک یہ تھا کہ جب میں مدرسے سے عربی اور دینی تعلیم لے کر واپس ہواتو میرے خاندان نے مجھے ایک نئے احساس سے دوچار کر دیا۔ میرے خاندان کے تقریباً تمام مرد اور عورت انگریزی تعلیم یافتہ تھے۔ میرے خاندانی دوست عتیق احمد انصاری (حال مقیم لاہور) بہت اچھی انگریزی جانتے تھے۔ ان کی اسکولنگ لکھنؤ کے لامائینیر اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے وہیں کے لامائینیر کالج سے انگلش لٹریچر میں ایم۔ اے کیا۔ اُن سے اور خاندان کے دوسرے افراد سے مل کر مجھے بیک وقت دو احساس ہوتا تھا۔ ایک یہ کہ میں وقت کی زبان نہیں جانتا۔ دوسرے یہ کہ میں دینی تعلیم کے باوجود یہ اہلیت نہیں رکھتا کہ دورِ جدید کے ایک انسان کو اسلام کی معنویت پر مطمئن کر سکوں۔
اس تجربے کے بعد میں نے انگریزی زبان سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت میں اعظم گڑھ میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خان کے ساتھ مقیم تھا۔ عجیب بات ہے کہ کوئی بھی شخص مجھے حوصلہ افزائی کرنے والا نہیں ملا۔ میرے بڑے بھائی نے جب یہ دیکھا کہ میں انگریزی زبان سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں تو انھوں نے کہا: بُڈھا طوطا کیا پڑھے گا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں باقی منزل (اعظم گڑھ) میں انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمنر کھول کر اُسے دیکھ رہا تھا کہ مولانا شہباز اصلاحی وہاں آگئے۔ انھوں نے مجھے دیکھ کر کہا: کچھ سمجھتے بھی ہو یا یوں ہی انگریزی اخبار لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُس زمانے میں میرا یہ حال تھا کہ ہر وقت میں انگریزی کتابیں پڑھتا رہتا تھا۔ سڑک پر چلتے ہوئے بھی میرے ہاتھ میں کوئی انگریزی کتاب ہوتی تھی اور میں راستہ چلتے ہوئے اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ میری اس عادت پر میری ماں غصہ ہوتی تھیں اور کہتی تھیں کہ تم کسی نہ کسی دن سڑک پر کسی گاڑی سے ٹکرا جاؤ گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues