الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۸
انگریزی سیکھنے کے بعد میں نے دورِ جدید کے سیکولر مفکرین کی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ اعظم گڑھ میں انگریزی کتابوں کی ایک لائبریری تھی جس کا نام مہتا لائبریری (Mehta Library) تھا۔ میں اس کا مستقل ممبر بن گیا۔ میں تقریباً روزانہ وہاں جاتا اور وہاں مدتوں سے بند پڑی ہوئی الماریوں سے انگریزی کتابیں نکال کر گھنٹوں اُن کا مطالعہ کرتا رہتا تھا۔ اس دور کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو میں نے اپنی کتاب (مذہب اور سائنس) میں اس طرح نقل کیا ہے:
”یہ ۱۹۶۶ء کی بات ہے۔ میں نے طے کیا کہ میں برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰ء ۔ ۱۸۷۲ء) کو پڑھ ڈالوں۔ خوش قسمتی سے میرے قریب شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ کی لائبریری میں مجھے رسل کی کتابوں کا پورا سٹ مل گیا۔ مگر جب میں اُن کتابوں کو لے کر گھر پہنچاتو میری بیوی ان کو دیکھ کر بہت متوحش ہوئیں۔ ”اب آپ ضرور گمراہ ہو جائیں گے‘‘ انھوں نے کہا۔ رسل اس دور کا معروف ترین ملحد ہے۔ اس لحاظ سے اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام دینی ذوق کے مطابق خطرے سے خالی نہ تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اس طرح اُس سے نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہو چکا تھا (صفحہ ۲۳)
جدیدیات کے اسی تفصیلی مطالعہ کا نتیجہ تھا کہ خدا کی توفیق سے میں اس قابل ہو سکا کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب (modern idiom) میں پیش کروں۔
اسی کے ساتھ میں نے یہ ضرورت محسوس کی کہ میں اسلام کا مطالعہ از سر نو زیادہ تفصیل کے ساتھ اُس کے اصل مصادر کے ذریعے کروں۔ چنانچہ میں لمبی مدت تک قرآن و حدیث، سیرت اور اسلامی تاریخ کے مطالعے میں مشغول رہا۔ اس دور کے مطالعے کا ایک اندازہ اُس زمانے کے ایک واقعے سے کیا جا سکتا ہے جس کو میں نے اپنی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں نقل کیا ہے۔ یہ واقعہ ۷ مارچ ۱۹۶۳ء کا ہے۔ میں نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا:
”یہ دار المصنفین اعظم گڑھ کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے۔ چاروں طرف تفسیر، حدیث،
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues