Revolution — Betrayed
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
قیادت کے تحت، کمیونسٹ پارٹی کی حکومت بھی زمین کے بڑے رقبے پر قائم ہوگئی۔ لیکن یہ حکومت مکمل طور پر ناکام رہی۔ کمیونسٹ لیڈر ٹراٹسکی (Trotsky leon) نے کمیونسٹ نظام کی اس ناکامی کو خود کمیونسٹ لیڈروں کی غداری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس موضوع پر ٹراٹسکی نے ایک کتاب شائع کی جس کا ٹائٹل یہ تھا:
Revolution — Betrayed
جرمن سائنس داں آئن سٹائن (Albert Einstein) نے جوهری توانائی (atomic energy) کو دریافت کیا۔ اس دریافت میں عظیم مثبت فائدہ چھپا ہوا تھا، لیکن پولٹکل لیڈروں نے جوهری توانائی کی دریافت کو لے کر ایٹم بم بنا ڈالا اور ساری دنیا میں جنگی تیاری کا جنون پیدا کر دیا۔
انڈیا کے لیڈر مہاتما گاندھی نے زبردست جدوجہد کے ذریعے انڈیا کو انگریزوں سے آزاد کرایا۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں ایسا سماج بنایا جائے گا جو انسانی خدمت اور سیوا پر مبنی ہوگا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ماڈل بستی کے طور پر مہاراشٹر میں سیوا گرام بنایا۔ مگر آزادی کے بعد مہاتما گاندھی کے تمام ساتھی، سیوا کے نظریے کو چھوڑ کر سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ انھوں نے گاندھی کی نصیحتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ چنانچہ اس منظر کو دیکھ کر مہاتما گاندھی نے کہا— اب میری کون سنے گا اس قسم کے واقعات تمام مصلحین کے ساتھ پیش آئے۔ ان تمام واقعات کا مشترک سبب یہ تھا کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے ہر اصلاحی اسکیم کو تہہ و بالا کر دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی بھی کوئی اصلاحی اسکیم اپنے مطلوب معیاری معنوں کامیاب نہ ہوسکی۔
۲۔ انسان کا دوسرا المیہ یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت، ہر انسان کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اس بنا پر ہر انسان درست سوچ (rightthinking) سے محروم رہتا ہے۔ وہ کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ جیتا ہے اور کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ ہی مرجاتا ہے۔ اپنی عدم واقفیت کی بنا پر اس کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ ہر آدمی اپنی سوچ اور
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues