Al-Risala · December 2006 · page 12

Revolution — Betrayed

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲

اپنے جذبات کے اعتبار سے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے، مگر اپنی بے خبر کی بنا پر وہ اسی مصنوعی شخصیت کو اصل شخصیت سمجھ لیتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں پہلی بار انسان نے کنڈیشننگ کے اس معاملے کو جانا۔ امریکا کے پروفیسر جے بی واٹسن (John Broadus Watson) نے لمبی تحقیق کے بعد ۱۹۲۵ میں اپنی کتاب بیہویرازم (Behaviourism) شائع کی۔ اسی کتاب کے نام پر نفسیات میں بیہویرسٹ اسکول (Behaviourist School) قائم ہوا، جو اتنا عام ہوا کہ عرصے تک دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں وہ علم النفس کے نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا رہا۔

لیکن پروفیسر واٹسن کی یہ دریافت صرف ایک ادھوری دریافت تھی۔ اس دریافت کے مطابق، کنڈیشنڈ انسان ہی اصل انسان تھا۔ اس نفسیاتی اسکول میں یہ مان لیا گیا کہ جو چیز انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتی ہے وہ اس کا پیدائشی نیچر نہیں ہے، بلکہ وہ بعد از پیدائش اس کے ماحول کا نرچر (nurture) ہے، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کنڈیشننگ کا یہ معاملہ انسان کے لیے ایک امتحان ہے۔ ہر انسان کو اپنی تعمیر شخصیت کے لیے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ قدرت نے پیاز کی صورت میں اس معاملے کا ایک نمونہ انسان کے لیے رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیاز میں ایک کے بعد ایک پرتیں (layers) ہوتی ہیں۔ ان پرتوں کو ہٹایا جائے تو آخر کار اس کا اصل مغز سامنے آ جائے گا۔ ایسا ہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی اصل شخصیت وہ ہے جو فطرت کی طرف سے اس کو پیدائشی طور پر ملتی ہے، پھر خارجی ماحول سے اس کے اوپر کنڈیشننگ کی پرت چڑھتی رہتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ باشعور ہونے کے بعد اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے وہ ان خارجی پرتوں کو ہٹائے، یہاں تک کہ فطری انسان سامنے آ جائے۔

ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر ہے، لیکن ماحول کے اثر سے وہ مسٹر کنڈیشنڈ بن جاتا ہے۔ ایسا خدا کے تخلیقی نظام کے تحت ہوتا ہے۔ انسان کو خدا نے شعور اور آزادی کی صلاحیت بخشی ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت، اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے آپ کو

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page