Revolution — Betrayed
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳
دوبارہ انسان فطری (Mr. Nature) بنائے۔ یہی انسان کا امتحان ہے، اور اس امتحان میں کامیاب ہونے والوں ہی کے لیے خدا نے اپنے ابدی انعامات کا اعلان کیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، مگر پوری معلوم تاریخ میں ڈی کنڈیشننگ کا نظریہ کبھی موجود نہیں رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون فطرت کے تحت، ہر زمانے میں لوگوں کی کنڈیشننگ ہوتی رہی، لیکن عدم واقفیت کی بنا پر وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ نہ کر سکے۔ ایسی حالت میں محفوظ طور پر کہا جا سکتا ہے کہ پوری تاریخ ایسے افراد سے خالی ہے جو اپنی ڈی کنڈیشننگ کر کے اپنے آپ کو مسٹر نیچر بنا سکے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ تاریخ کے تمام مفکرین اور فلاسفہ اپنے اصلاحی یا فکری کردار کو ادا کرنے کے لیے نااہل تھے۔ وہ اس مقصد کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
تمام فکری نظاموں میں اسلام اس معاملے میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم وہ ہے جس کو تزکیہ (purification) کہا جاتا ہے۔ تزکیہ کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ اُسی عمل کا نام ہے جس کے لیے ہم نے ڈی کنڈیشننگ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تزکیہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ (introspection) کرے ۔ وہ اپنی فکری اور نظریاتی غلطیوں کو ڈھونڈ کر نکالے اور ان کی اصلاح کرے۔ یہ عمل تمام تر ایک ذہنی عمل ہے۔ آدمی بے لاگ طور پر اپنے اوپر نظر ثانی کرتا ہے۔ یہ عمل مسلسل طور پر ساری عمر جاری رہتا ہے۔ اس طرح آدمی تزکیہ کے عمل کے ذریعے اپنی اصلاح کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک مزکّی اور مطہّر شخصیت (purified personality) بن جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کے لفظ کو ڈی اسٹریٹنگ (de-stressing) کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس استعمال کے اعتبار سے ڈی کنڈیشننگ کا مطلب ہوتا ہے— ذہنی تناؤ کو ختم کرنا۔
مگر میرے نزدیک یہ ڈی کنڈیشنگ کے لفظ کا نادرست استعمال ہے۔ میرے نزدیک ڈی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues