Revolution — Betrayed
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
کنڈیشننگ سے مراد یہ ہے کہ پروفیسر واٹسن کے تصور کے مطابق، کنڈیشننگ کے ساتھ برعکس عمل کیا جائے۔ جس کنڈیشننگ کو پروفیسر واٹسن نے حتمی سمجھ لیا تھا، اس کو حتمی نہ سمجھتے ہوئے فکری عمل کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، اسی کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ میرے علم کے مطابق، مفکرین نے اگرچہ ڈی کنڈیشننگ کو اس مخصوص معنی میں استعمال نہیں کیا ہے، لیکن میرے نزدیک ڈی کنڈیشننگ کا صحیح ترین مفہوم یہی ہے۔
اس موضوع پر ایک بار میری گفتگو ایک کمیونسٹ پروفیسر سے ہو رہی تھی۔ انھوںنے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ کو ہم بھی مانتے ہیں، مگر ہم اس کو ڈی کلاسنگ(de-classing) کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ڈی کنڈیشننگ ، اور ڈی کلاسنگ دونوں بالکل الگ الگ اصطلاحیں ہیں۔ ڈی کلاسنگ ایک سماجی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے بے طبقاتی سماج (classless society) بنانا۔ مگر ڈی کنڈیشننگ مکمل طور پر ایک نفسیاتی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے ذہن کی فکری آلودگی کو دور کر کے ذہن کو دوبارہ خالص فطری حالت پر لے جانا۔
۳۔ اس معاملے میں تیسری چیز وہ ہے جس کو افادی نظریہ(Utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ انسان ہمیشہ سے مادی مفادات کا طالب رہا ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں اس تصور نے باقاعدہ فلسفے کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اسی فلسفے کو یوٹیریرین ازم کہا جاتا ہے۔ اس افادی فلسفے کو پہلے برطانوی فلسفی بنتھم (Jeremy Bentham) نے پیش کیا تھا۔ بنتھم ۱۷۴۸ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوا، اور ۱۸۳۲ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد اس افادی فلسفے کو انیسویں صدی کے مشہور فلسفی جان اسٹوارت مل (John Stuart Mill) نے، اور دوسرے فلسفیوں نے آگے بڑھایا، یہاں تک کہ عملاً یہ فلسفہ جدید دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ بن گیا۔ آج شعوری یا غیر شعوری طور پر تمام انسان اسی فلسفے کے تحت سوچتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔
یوٹیلیریرین اسکول میں بہت سے نام شمار کیے جاتے ہیں، اور ان کے درمیان بعض ظاہری اختلافات بھی ہیں، مگر عملاً یہی فلسفہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues