الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۹
فقہ، تاریخ، علمِ کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ بڑی بڑی الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہو چکے ہیں اور تمام لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جا چکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے جس میں ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اس وقت میری کیفیت یہ ہو چکی تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا ہو ۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں۔ مگر اٹھاتو کمزوری کی وجہ سے چکر آ گیا اور سمت بھول گیا۔ یہ میرا مدت کا جانا پہچانا کمرہ ہے۔ مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ متعلقہ الماری فلاں سمت میں ہے‘‘ (صفحہ ۱۶-۱۵)
اس طرح دو طرفہ طور پر اپنے تفصیلی مطالعے کے بعد میں نے مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو مختلف اخبارات اور جرائد میں چھپتے رہے۔ اس سلسلے میں اسلام اور عصر حاضر کے موضوع پر میری پہلی تفصیلی کتاب ’’علمِ جدید کا چیلنج‘‘ ہے جو ۱۹۶۶ میں شائع ہوئی۔ اسی طرح دین کی تعبیر و تشریح کے اعتبار سے میری پہلی مفصل کتاب ’’اسلام‘‘ ہے جو ۱۹۷۵ ۱۹ میں مکمل ہو کر شائع ہوئی۔ میں اپنے تفصیلی مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کی تعلیمات مکمل طور پر خدا اور آخرت کے مرکزی تصور پر مبنی ہیں۔ اسلام کی دعوت در اصل انڈار آرٹ کی دعوت ہے۔ انسان کے اندر متقیانہ ذہن بنانا اور اس کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرنا، یہی اسلام کی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔ یہی ذہن میرا پہلے بھی تھا اور یہی ذہن آج بھی ہے۔ اس حقیقت کو نہایت آسانی کے ساتھ اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص میری ابتدائی تحریروں کا مجموعہ پڑھے جو ’’قرآن کا مطلوب انسان‘‘ کے نام سے چھپ کر شائع ہو چکا ہے، اور
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues