مذہب اور سائنس
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹
مذہب اور سائنس
مذہب کیا ہے۔ مذہب زندگی کی سائنس ہے۔ اس کے مقابلے میں معروف سائنس، طبیعیات کی سائنس ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، طبیعیات کی سائنس یا فزیکل سائنس میں پچھلے پانچ سو سال کے اندر، بہت ترقی ہوئی ہے، جب کہ اس مدت میں مذہب میں کوئی ترقی نہ ہوسکی۔
مثلاً پانچ سوسال پہلے انسان سادہ قسم کی اونٹ گاڑی یا گھوڑا گاڑی پر سفر کرتا تھا، مگر پچھلے کئی سو سال کی مسلسل ترقی کے نتیجے میں اب انسان، سواری کے میدان میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہے ۔ بائسکل، اسٹیم شپ، موٹر کار، ہوائی جہاز، وغیرہ ، اس ترقی کے نمونے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مذہب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ مذہب پر جمود کا عالم طاری ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذہب، پانچ سو سال پہلے جہاں تھا وہیں وہ آج بھی پایا جاتا ہے۔ مذہب میں کوئی حقیقی ترقی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ حالت ہر مذہب کی ہے۔ اس معاملے میں کسی مذہب کا کوئی استثنا نہیں ۔ طبیعیاتی ترقیوں کے سیلاب میں مذہب ایک غیر ترقی یافتہ ڈسپلن بنا ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ طبیعیات کی دنیا میں پچھلے پانچ سو سال سے انکوائری (inquiry) کا عمل جاری ہے۔ ہر چیز کی تحقیق ہورہی ہے۔ ہر چیز کھلے ڈائلاگ کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں طبیعیات کے شعبوں میں ردّوقبول کا عمل جاری ہے۔ مثلاً پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ زمین مرکز میں ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے، مگر مشاہدہ اور تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا کہ ایسا نہیں، بلکہ سورج درمیان میں ہے اور زمین اور دوسرے سیارے وسیع خلا میں اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ جب یہ نئی دریافت ہوئی تو اس کے فوراً بعد علمائے فلکیات نے قدیم روایتی نظریے کو ترک کر کے جدید سائنسی نظریے کو اختیار کر لیا۔
یہی انکوائری کا عمل ترقی کا اصل سبب ہے۔ لیکن مذہب کے میدان میں انکوائری کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ مذہب کی دنیا میں جمود آ گیا۔ مذہب کا عمل ایک مقام پر رُک کر رہ گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues