مذہب اور سائنس
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰
موجودہ زمانے میں مذہب کو ٹریڈیشن (tradition) کہا جاتا ہے۔ مثلاً مذہب یہودیت کو یہودی ٹریڈیشن، مذہب عیسائیت کو عیسائی ٹریڈیشن اور مذہب اسلام کو اسلامی ٹریڈیشن، وغیرہ۔ ایسا اس لیے ہوا کہ مذہب کو ایک جامد روایت مان لیا گیا، ایک ایسی روایت جو نسل در نسل ایک ہی حالت پر چلی جارہی ہے، حالاں کہ سائنس میں ایسا نہیں ہوا۔ سائنس کی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ برٹش سائنس کو برٹش ٹریڈیشن، جرمن سائنس کو جرمن ٹریڈیشن اور امریکن سائنس کو امریکن ٹریڈیشن کہا جانے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح معروف سائنس ایک سائنس ہے، اسی طرح مذہب بھی ایک سائنس ہے۔ مذہب کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مذہب میں بھی آزادانہ انکوائری اور کھلا ڈائلاگ اُسی طرح جاری کیا جائے جس طرح وہ سائنس میں عملاً جاری ہے۔ اس طرح کی انکوائری یا ڈائلاگ جاری نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا کہ مذہب میں قدیم زمانے میں کم تر واقفیت کی بنا پر جو باتیں مان لی گئیں، وہی بدستور آج تک جاری ہیں۔ ضرورت تھی کہ بعد کی تحقیقات کو لیتے ہوئے قدیم بے اصل نظریات کو ترک کر دیا جائے اور ان کی جگہ اُن باتوں کو مان لیا جائے جو بعد کی تحقیقات سے انسان کے علم میں آچکی ہیں۔
مذاہب کے حلقے میں باشعور لوگوں کے اندر خود بھی اس کا احساس پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان بار بار اس قسم کی تحریکیں اٹھتی رہی ہیں، اگرچہ موافق فضا نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریکیں زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ مثلاً ہندو ازم میں آریہ سماج کی تحریک، جو مورتی پوجا کے خلاف اُٹھی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ مورتی پوجا ویدوں میں نہیں ہے، یہ بعد کا اضافہ ہے۔ اسی طرح بھکتی موومنٹ، جو ہندو ازم میں بڑھی ہوئی ریچول ازم (Ritualism) کے خلاف اُٹھی۔ اُس نے رسمی اعمال کے بجائے ڈووشن (devotion) پر زور دیا۔ اسی طرح بُدھازم میں، نیوبدھازم (neobuddhism) کی تحریک۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے رسم و رواج سے پاک کر کے بُدھازم کو ابتدائی دور کے بدھ ازم کی طرف واپس لے جانا۔
یہی معاملہ مسیحیت کا ہے۔ ۳۲۵ء میں ہونے والی نیقیان کونسل (Nicaea Council) کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues