Al-Risala · December 2006 · page 21

مذہب اور سائنس

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱

بعدِ مسیحیت میں کافی تبدیلی آئی۔ اب مسیحی تعلیمات کے بجائے چرچ کی روایات، مسیحیت کا ماخذ بن گئیں۔ اس کے بعد مسیحی حلقے میں سولھویں صدی میں رفارمیشن (Reformation) کی تحریک اٹھی جو گویا چرچ سے بائبل کی طرف واپسی کی تحریک تھی، مگر وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس طرح، ڈی ہیلی نائزیشن (Dehellenization) کی تحریک، جو انیسویں صدی کے آخر میں اٹھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی اور رومی اثرات سے مسیحیت کو پاک کیا جائے، اگرچہ یہ تحریک زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ اس معاملے میں اسلام کا معاملہ مختلف ہے۔ دوسرے مذاہب کے برعکس، اسلام میں اصل متن کامل طور پر محفوظ ہے۔ یہاں جو بگاڑ آتا ہے وہ مسلم قوم میں آتا ہے نہ کہ خود اسلام میں۔ اس لیے اسلام میں رفارمیشن جیسی تحریک کی ضرورت نہیں۔ البتہ اسلام میں احیاء (Revivalism) کی ضرورت ہوتی ہے، تا کہ مسلم اضافوں سے پاک کرکے اسلام کو اس کی اصل صورت میں سامنے لایا جائے۔ مثلاً مانزم (monism) کے عقیدے کو لیجیے، جس کو ادویت واد، یا وحدت الوجود کہا جاتا ہے۔ یعنی حقیقت کو ایک سنگل وحدت کے روپ میں دیکھنا۔ پانچ ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے آئ بٹی کرائسس کے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔ انھوں نے یہ فرض کیا کہ انسان ایک کُلی حقیقت کا حصہ ہے۔ وہ صرف اس لیے اُس سے الگ ہوا ہے کہ ایک دن دوبارہ وہ اس سے مل جائے ۔ انسان ایک الگ وجود کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں پا رہا تھا، لیکن جب اس نے یہ مان لیا کہ وہ ایک عظیم تر حقیقت کُلّی کا ذاتی جُزو ہے، تو اس نے گویا اپنی شناخت پالی۔ ۔ کائنات کے اندر اس کو اپنی پہچان معلوم ہوگئی ۔ یہ نظریہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلا۔

مگر اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مانزم کا نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تخیل تھا، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ بیسویں صدی میں فلکیاتی سائنس میں جو تحقیق ہوئی ہے، اس نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ بگ بینگ(Big (Big Bang) کا نظریہ جو سائنسی حلقے میں اب ایک مسلمہ بن چکا ہے، وہ ثابت کرتا ہے کہ خالق اور مخلوق دونوں ایک نہیں ہو سکتے۔ خالق بلاشبہ تخلیق سے الگ ہے، اسی لیے وہ تخلیق کا واقعہ ظہور میں لاسکتا ہے۔ اگر خالق خود تخلیق کا حصہ ہو تو تخلیق کا واقعہ کبھی

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page