Al-Risala · December 2006 · page 22

مذہب اور سائنس

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲

وجود ہی میں نہ آئے اور تخلیق ہمیشہ کے لیے غیر موجود بنی رہے۔

بگ بینگ کا نظریہ یہ بتاتا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے پوری کائنات ایک واحد سپرايٹم کی صورت میں تھی۔ پھر خارجی مداخلت کے ذریعے اس کے اندر انفجار (explosion) ہوا۔ اس انفجار کے بعد سپرايٹم کے ذرّات خلا میں پھیل گئے اور موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ سپرايٹم کے اندر یہ انفجار، داخلی سبب کے ذریعے نہیں ہوا، بلکہ وہ واضح طور پر ایک خارجی مداخلت کار (intervener) کے ذریعے ہوا۔ اور جب یہ مان لیا جائے کہ زیر مداخلت (entervened) سپرايٹم الگ تھا اور مداخلت کار (intervener) الگ، تو اپنے آپ ادویت وادیامانزم کا نظریہ ختم ہو جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں انسان نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو اس نے فرض کر لیا کہ چاند ایک دیوتا ہے۔ اس طرح چاند کو ایک آسمانی دیوتا مان لیا گیا اور اس کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو جب مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ چاند کوئی روشن وجود نہیں۔ وہ سورج کی روشنی پڑنے سے چمکتا ہے۔ بعد کو جب خلائی سفر میں ترقی ہوئی تو انسان چاند کی طرف پرواز کرنے کا منصوبہ بنانے لگا۔ یہاں تک کہ امریکی خلا باز نیل آرم سٹرانگ (Neil Armstrong) ۲۱ جولائی ۱۹۶۹ کو چاند کی سطح پر اتر گیا ۔ یہ پہلا انسان تھا جو چاند کی سطح پر اترا۔

اس براہ راست مشاہدے کے بعد معلوم ہوا کہ چاند صرف ایک خشک چٹان ہے، وہ نہ تو روشن ہے اور نہ گول، اور نہ اس کے اندر کوئی امتیازی صفت ہے۔ اس دریافت نے چاند کے تقدس کا نظریہ علمی طور پر ختم کر دیا۔ ضرورت تھی کہ اس کے بعد چاند کو دیوتا سمجھنے کے عقیدے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، لیکن ابھی تک ایسا نہ ہو سکا۔

یہی معاملہ آواگون (cycle of life) کے نظریے کا ہے۔ یہ نظریہ اس تصور پر قائم ہے کہ آدمی اپنے پچھلے جنم کے اعمال کے مطابق، دوبارہ زمین پر پیدا ہوتا ہے اور پھر اپنے کَرم کی سزا بھگت کر مر جاتا ہے، تاکہ اسی طرح دوبارہ پیدا ہواور اپنے کرم کا نتیجہ بھگتے۔ یہ سلسلہ ۸۰ لاکھ سال سے بھی زیادہ مدت تک بار بار جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ نِروان (نجات) کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page