مذہب اور سائنس
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳
یہ عقیدہ ہزاروں سال پہلے ایک فلسفیانہ نکتے کے طور پر لوگوں کے سامنے آیا۔ فلسفی نے دیکھا کہ لوگ پیدا ہوتے ہیں تو اُن میں سے کوئی امیر ہوتا ہے اور کوئی غریب، کوئی محروم ہوتا ہے اور کوئی پائے ہوئے ہوتا ہے۔ اس معاملے کو اس نے انسان کے ''کرم‘‘ سے جوڑ کر آواگون کا فلسفہ بنا لیا۔ دھیرے دھیرے یہ فلسفیانہ نکتہ ایک باقاعدہ مذہبی عقیدہ بن گیا اور کروڑوں لوگ اس کو درست سمجھنے لگے۔ مگر موجودہ زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے بتایا ہے کہ محروم اور غیر محروم (haves and have nots) کا فرق انسانی عمل (کرم) کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک قانونِ فطرت ہے۔ فطرت کے نظام میں عدم مساوات (inequality) کا طریقہ رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے انسانی سماج میں چیلنج اور کامپیٹیشن کا ماحول قائم ہوتا ہے۔ تمام ترقیاں اس چیلنج اور کامپیٹیشن کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں۔ (ملاحظہ ہو ہو—آرنلڈ ٹائن بی کی ضخیم کتاب : دی اسٹڈی آف ہسٹری) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان امیر اور غریب، پس ماندہ اور ترقی یافتہ کا فرق کوئی برائی کی بات نہیں، بلکہ وہ ایک مطلوب فطری نظام ہے، وہ تمام انسانی ترقی کا ضامن ہے۔ اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد ضرورت ہے کہ آواگون کے مفروضے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ اور یہ مان لیا جائے کہ آواگون کا نظریہ محض ایک فلسفیانہ لطیفہ (joke) تھا، نہ کہ کوئی حقیقی نظریہ۔ اسی طرح روحانیت کے میدان میں ہزاروں سال سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ انسان کا دل (heart) روحانی معرفت کا خزانہ ہے۔ دل کا مراقبہ (meditation) کر کے اس روحانی خزانے کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظریہ اتنا پھیلا کہ تمام روحانی اسکول نے اس کو اختیار کر لیا۔ مگر موجودہ زمانے میں انسانی جسم پر جو تحقیقات ہوئی ہیں، اُن سے یقینی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ دل کسی بھی قسم کے معارف کا خزانہ نہیں، وہ صرف گردشِ خون (ciration of blood) کا ذریعہ ہے۔ فکر اور جذبات دونوں کا مرکز یکساں طور پر انسان کا ذہن (mind) ہے۔ اب اہل علم کے درمیان اس معاملے میں کوئی اختلاف نہیں۔
اس تحقیق کے بعد اب ضروری ہو گیا ہے کہ اس پورے معاملے پر نظرثانی کی جائے، اور پھر مبنی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues