Faith and Reason
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴
بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کے نظریے کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور اس کے بجائے مبنی بر ذہن روحانیت (mind-based spirituality) کے نظریے کو اختیار کر لیا جائے۔ قدیم زمانے میں مذہب کو ایک مقدس چیز سمجھا جاتا تھا۔ اس بنا پر مذہب کا تنقیدی جائزہ ایک امر ممنوع بنا ہوا تھا، مگر موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے اثر سے یہ ہوا کہ جس طرح دوسرے تمام شعبوں کا تنقیدی جائزہ لیا جا رہا تھا، اسی طرح مذہب کا بھی تنقیدی جائزہ لیا جانے لگا۔ اس شعبہ تحقیق کو اب تاریخی انتقاد (historical criticism) کہا جاتا ہے۔ اس تحقیق و تنقید کے بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب بعد کی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب غیر تاریخی بن چکے ہیں، ہر مذہب گویا کہ ایک میتھا لوجی ہے۔ جس کے پیچھے کوئی تاریخی سند (historical credibility) موجود نہیں۔
مذاہب کے اس عموم میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ مذہب اسلام کا ہے۔ خالص علمی جائزے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ تمام مذاہب میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کو پورے معنوں میں تاریخی مذہب کہا جا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں علم کا تقاضا ہے کہ دوسرے مذاہب کو قابل احترام اثاثہ سمجھتے ہوئے یہ مان لیا جائے کہ عملی طور پر صرف اسلام قابل اعتبار مذہب ہے، الہامی سچائی کو جاننے کے لیے اسلام ہی واحد مستند ذریعے کی حیثیت رکھتا ہے۔
مسیحی پوپ (Pope Benedict XVI) نے ۱۲ ستمبر ۲۰۰۶ کو ویسٹ جرمنی کی یونیورسٹی ریجنس برگ (Regensburg) میں ایک لکچر دیا۔ یہ لکچر سات صفحات پر مشتمل تھا۔ سات صفحے کے اس لکچر کا عنوان یہ تھا:
Faith and Reason
مسیحی پوپ نے اپنے اس لکچر میں چودھویں صدی عیسوی کے بازنطینی کنگ، مینوئیل دوم (Manual II) کے ایک قول کو نقل کیا تھا۔ وہ قول یہ تھا: مجھے محمد کی لائی ہوئی کوئی ایسی بات بتاؤ جو نئی ہو: Show me just what Muhammad brought that was new. بازنطینی کنگ کی یہ بات پوپ نے کسی تنقید کے بغیر نقل کی ہے۔ مگر بلا شبہ یہ ایک ایسی بات
‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues