Al-Risala · February 2006 · page 10

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰

دوسری طرف وہ ماہنامہ الرسالہ میں میری بعد کی تحریروں کو پڑھے، دونوں کے درمیان وہ حیرت انگیز مشابہت پائے گا۔

قرآن کا مطلوب انسان نامی کتاب کے صفحہ ۶۰ - ۶۲ پر ایک مضمون چھپا ہے۔ یہ مضمون پہلی بار جماعتِ اسلامی کے سہ روزہ اخبار دعوت کے شمارہ ۵ ستمبر ۱۹۵۵ میں چھپا تھا۔ یہ مضمون دعوتِ اسلامی کے موضوع پر تھا۔ اس مضمون میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ اسلامی دعوت دراصل اندازِ آخرت کا دوسرا نام ہے نہ کہ اقامتِ سیاست کا۔ اس کے بعد کوئی شخص ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ دسمبر ۲۰۰۲ دیکھے۔ اُس میں وہ چار صفحے کے اُس مضمون کو پڑھے جو اس عنوان کے تحت چھپا ہے: ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا۔ ان دونوں تحریروں کے درمیان اگر چہ تقریباً ۵۰ سال کا فاصلہ ہے مگر دونوں کا مضمون مکمل طور پر ایک ہے۔ یہ تقابل صاف طور پر بتا رہا ہے کہ ۲۰۰۲ میں میرا جو دعوتی ذہن ہے ٹھیک وہی ذہن میرے اندر ۱۹۵۵ میں بھی موجود تھا۔

اس کے بعد میں نے سیکڑوں کی تعداد میں کتابیں اور مضامین شائع کیے۔ میری ان تمام تحریروں میں مشترک طور پر یہی ذہن پایا جاتا ہے— ایک طرف اسلام کا ایسا علمی تعارف جس میں آج کا انسان یہ محسوس کرے کہ اسلام آج بھی اُتنا ہی ریلیونٹ (relevant) ہے جتنا کہ وہ اپنے ابتدائی دَور میں تھا۔ دوسرا پہلو جو میری تحریروں کا خاص موضوع رہا ہے وہ ہے اسلام کو بعد کی آمیزشوں سے پاک کرنا اور اُس کو اُس کی خالص صورت میں پیش کرنا۔

میرے ذہن میں اوّل روز سے یہ تھا کہ مجھے اپنی کوئی علیحدہ جماعت بنانا نہیں ہے بلکہ موجودہ جماعتوں اور اداروں سے مل کر کام کرنا ہے۔ اس سلسلے میں میں اکثر بڑی جماعتوں اور اداروں کے ساتھ تنظیمی طور پر وابستہ ہوا۔ مگر تجربے کے بعد معلوم ہوا کہ ہر جماعت اور ہر ادارہ، گروہی عصبیت کا شکار ہے۔ میرے جیسا آدمی کسی بھی ادارے یا جماعت کے ساتھ زیادہ فعال انداز میں کام نہیں کر سکتا۔ مثلاً میں اس سلسلے میں جماعتِ اسلامی ہند سے وابستہ ہوا۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ جماعت اسلامی کی فکر کا سر چشمہ حقیقتاً قرآن اور سنت نہیں ہے بلکہ وہ قرآن اور سنت کی ایک منحرف سیاسی تعبیر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page