الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
ہے ۔ چنانچہ میں زیادہ دیر تک جماعت اسلامی کے ساتھ نہ چل سکا۔ اسی طرح کچھ عرصے کے لیے میری وابستگی تبلیغی جماعت سے ہوئی، مگر اس سے قریب ہو کر معلوم ہوا کہ تبلیغی جماعت بھی اصلاً قرآن اور سنت پر نہیں کھڑی ہوئی ہے بلکہ وہ خود اپنی جماعت انجیل پر کھڑی ہوئی ہے، جس کا نام فضائل اعمال ہے۔ اسی طرح میں چند سال کے لیے ندوۃ العلماء (لکھنؤ) سے وابستہ رہا، مگر میں نے پایا کہ یہاں کے ماحول میں خدا پرستی سے زیادہ شخصیت پرستی کا غلبہ ہے۔ یہ بلاشبہ ایک مبتدانہ مزاج تھا۔ میں اس مزاج کے ساتھ مصالحت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے اُس سے بھی میرا تعلق ٹوٹ گیا۔ یہی معاملہ جمعیت علماء ہند کے ساتھ پیش آیا۔ اس کے ساتھ میں چند سال تک وابستہ رہا مگر آخر کار معلوم ہوا کہ جمعیت علماء کا سارا زور ملی سیاست پر ہے۔ اور ملی سیاست میرے دعوتی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان تجربات کے بعد آخر کار میں نے ۱۹۷۶ میں ماہنامہ الرسالہ جاری کیا۔ الرسالہ اپنی ابتدا ہی سے صرف ایک ماہنامہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک مشن تھا۔ الرسالہ کا مقصد اسلام کو مسلمانوں کی قومی سیاست سے الگ ہو کر خالص دعوتی حیثیت سے زندہ کرنا تھا۔ خدا کی توفیق سے الرسالہ اسی نہج پر قائم ہے۔ کوئی بھی شخص الرسالہ کے شماروں کا مطالعہ کر کے اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔
۱۹۷۴ کے بعد جب مسلم تاریخ کا نیا دور شروع ہوا تو عین اُسی کے ساتھ ملک میں فرقہ وارانہ فساد کا سنگین مسئلہ شروع ہو گیا۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے افراد کو اس مسئلے کا حل صرف یہ نظر آیا کہ وہ اپنے مفروضہ حریفوں کے خلاف احتجاج اور شکایت کا بے فائدہ طوفان جاری کر دیں۔ میں نے اس مسئلے کا مطالعہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں کیا اور پھر مسلسل جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں کو یہ بتایا کہ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے اور وہ اعراض ہے۔ مسلمان ہندوؤں کی مفروضہ اشتعال انگیزی پر اعراض کا طریقہ اختیار کریں اور پھر کوئی فساد نہ ہوگا۔ لمبی مدت کی اس صبر آزما کوشش کے بعد آخر کار مسلمانوں کی سمجھ میں یہ قرآنی اصول آگیا اور انھوں نے اس کو اختیار کر لیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب انڈیا میں فرقہ وارانہ فساد صرف ماضی کی ایک یاد بن کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح آزادی کے بعد تبادلہ آزادی کے نتیجے میں یہ ہوا کہ ہندوستان کی سرکاری ملازمتوں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues