Al-Risala · December 2006 · page 41

احساسِ محرومی کیوں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱

پر سفر کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ جواب میں ایک بات یہ کہی گئی کہ وندے ماترم نہ گیتا میں آیا ہے اور نہ ویدوں میں۔ وہ صرف بنکم چندر چٹرجی کے ناول ’آنند مٹھ‘ میں آیا ہے۔ اس لیے وہ کوئی مذہبی نہیں یہ ایک پولیٹکل اشو ہے۔ ایسی حالت میں وندے ماترم پڑھنے کو مذہبی اہمیت دے کر اس کے خلاف ہنگامہ کرنا درست نہیں۔

۱۶۔ ۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو دوردرشن (اردو) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کے تفصیلی انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ یہ انٹرویو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ انٹرویور مسٹر تحسین منور تھے۔ یہ پورا انٹرویو نظام الدین ویسٹ کے پارک میں ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق، اسلام کے مختلف پہلوؤں سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام اور دور جدید میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اسلام ایک ابدی مذہب ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب میں بیان کیا جائے۔

۱۷۔ ہندی اخبار کے نمائندہ مسٹر کرشن موہن مشرانے ۷ ستمبر ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا تعلق، وندے ماترم سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ وندے ماترم کو پڑھانے پر اس لیے زور دیا جاتا ہے کہ اس سے ملک میں دیش بھکتی آئے گی۔ مگر سو برس سے وندے ماترم پڑھا جا رہا ہے، مگر اب تک ملک میں دیش بھکتی کو فروغ حاصل نہ ہو سکا۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ اس معاملے پر نظرثانی کی جائے، نہ کہ اس کو پڑھانے کی دھوم مچائی جائے۔

۱۸۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو اسی دن صبح ۹ بجے کے لائیو ٹیلی کاسٹ میں نشر کیا گیا۔ آج ہی ۱۴ ستمبر کے اخباروں میں یہ خبر آئی ہے کہ مسیحی پوپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام کے پیغمبر نے یہ تعلیم دی ہے کہ اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلاؤ۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ اسلام میں تلوار کا استعمال صرف وقتی اور استثنائی طور پر دفاع کے لیے کیا گیا۔ اسلام کی اشاعت کے لیے کبھی تلوار کا استعمال نہیں کیا گیا۔ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ: ’’یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں، بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں‘‘۔ (متی: ۳۵) حضرت مسیح کے اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تلوار کا مذہب لے کر آئے تھے۔ اسی طرح پیغمبر اسلام بھی تلوار کا مذہب لے کر نہیں آئے، بلکہ وہ امن کا مذہب لے کر آئے۔ ۱۹۔ این ڈی ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم ۱۴ ستمبر ۲۰۰۶ کو اسلامی مرکز کے دفتر میں آئی اور صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویور مسٹر شارق تھے۔ یہ انٹرویو پوپ کے اُس بیان سے متعلق تھا جو ۱۴ ستمبر کے اخبارات میں چھپا ہے۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ پوپ کا بیان ایک کنفیوژن پر مبنی ہے۔ قرآن میں قتال کی بات ضرور کی گئی ہے مگر وہ صرف دفاع کے لیے ہے۔ پوپ نے یہ کیا کہ قتال کی بات کو اسلام کی تبلیغ سے جوڑ دیا۔

۲۰۔ بی بی سی لندن (اردو سروس) کے نمائندہ مسٹر ثقلین امام نے ۱۵ ستمبر ۲۰۰۶ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز

‹ Previous page Next page › Contents of December 2006 All issues

Printed page