الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲
میں اچانک مسلمانوں کا تناسب بہت کم ہو گیا۔ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا بھی اُن کے لیے ایک مشکل امر بن گیا۔ اس موضوع پر بھی مسلمانوں نے اپنے مزاج کے مطابق مطالبا تی مہم شروع کر دی ۔ اس مہم کا خاص نکتہ رزرولیشن تھا۔ مسلمانوں کی عمومی سوچ یہ بن گئی کہ جب تک مسلمانوں کو خصوصی رعایت نہ دی جائے وہ دوبارہ سروسوں میں اپنا مقام نہیں حاصل کر سکتے۔
اس موضوع پر میرا ذہن مکمل طور پر مختلف تھا۔ میں جانتا تھا کہ زندگی میں کامیابی کا راز اس امر پر ہے کہ آدمی اپنی اہلیت ثابت کر سکے۔ یہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے، یہاں رزرولیشن کی بات کرنا ایک ایسی خلاف فطرت بات ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ لمبی جدوجہد کے بعد اس پہلو سے بھی مسلمانوں کا ذہن بدلا اور اب سارے ملک میں مسلمان نہایت تیزی کے ساتھ تعلیم کے میدان میں جدوجہد کر رہے ہیں اور اُس کا مفید نتیجہ حاصل کر رہے ہیں۔
اسی طرح مختلف واقعات کے نتیجے میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کا ماحول قائم ہو گیا تھا۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کی ترقی کے لیے خطر ناک تھی۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کے نتیجے میں وہ معتدل ماحول ختم ہو رہا تھا جو دعوتی عمل کے جاری رہنے کے لیے ضروری ہے۔ اس منفی ذہن کو ختم کرنے کے لیے میں نے مسلسل تقریری اور تحریری جدوجہد شروع کر دی جو خدا کے فضل سے نہایت مفید ثابت ہوئی۔
اس منفی ذہن کو ختم کرنے کے لیے میں نے دو طرفہ کوشش کی۔ ایک طرف ہندوئوں کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سوچ کو کمزور کیا۔ یہ مہم اس حد تک کامیاب ہوئی کہ ہندوئوں کی ’’ اینٹی مسلم پارٹی‘‘ کی سوچ بنیادی طور پر بدل گئی۔ پہلے یہ لوگ صرف ہندوئوں کو اپنا ووٹ بینک سمجھتے تھے، اس لیے وہ مسلمانوں کو نظر انداز کرتے تھے۔ اب وہ سمجھنے لگے کہ اپنی سیاسی کامیابی کے لیے اُنہیں لازمی طور پر مسلم ووٹ کی ضرورت ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی فکر مکمل طور پر بدل گئی۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، میں نے پایا کہ ان کی منفی سوچ کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ ہندوستان کو اپنے لیے ایک پرابلم کنٹری سمجھتے ہیں۔ میں نے مسلسل کوشش کے ذریعے اُن کو بتایا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues