Al-Risala · February 2006 · page 13

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳

ہندوستان اُن کے لیے مواقع (opportunities) کا مُلک ہے نہ کہ مسائل (problems) کا مُلک۔ اس کوشش کی ایک جھلک میری کتاب ’’ہندوستانی مسلمان‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے، جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں مسلمانوں کا ذہن بڑے پیمانے پر بدلا۔ ہندوستان کے بارے میں مسلمانوں کے اندر وہ معتدل سوچ پیدا ہوئی جو دنیوی ترقی اور دعوتی عمل کے لیے یکساں طور پر ضروری ہے۔

موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے ڈائیلاگ کا زمانہ ہے۔ ساری دنیا میں مسلسل طور پر مختلف طبقوں کے درمیان ڈائیلاگ اور تبادلۂ خیال جاری ہے۔ یہ زمانہ رُجحان مذہب کے میدان میں بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ ہندوستان میں اور ساری دنیا میں یہ ہورہا ہے کہ مختلف مذاہب کی مشترک کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ ان میں ہر مذہب کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ اس محاذ پر اسلام کی نمائندگی بہت کمزور ہے۔ مسلمان یا تو ان مشترک کانفرنسوں میں شرکت نہیں کرتے یا اگر کوئی مسلمان وہاں پہنچ جاتا ہے تو وہ اسلام کی نمائندگی اِس مطلوب انداز میں نہیں کر پاتا جو آج کی دنیا میں معیاری انداز سمجھا جاتا ہے۔

میں نے اس اعتبار سے اپنے آپ کو تیار کرنا شروع کیا اور جہاں بھی موقع ملا وہاں پہنچ کر اسلام کی مثبت نمائندگی کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع کر دیا۔

یہ مہم ابتدائی طور پر ۱۹۴۸ میں شروع ہوئی ۔ تاہم اِس کا مطبوعہ آغاز ۱۹۵۹ میں ہوا۔ نومبر ۱۹۵۹ء کو سیوبارہ ( بجنور) میں آریہ سماج کے تحت مختلف مذاہب کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا جو پہلی بار جنوری ۱۹۶۰ میں ’’اسلام کا تعارف‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کانفرنس کے صدر بریلی کے ایک ہندو ایڈوکیٹ تھے۔ انہوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا تھا کہ ’’ آج کے جلسے میں جو تقاریر ہوئیں اُن میں سب سے زیادہ ریلیوینٹ (relevant) تقریر مولانا صاحب کی تھی۔ ‘‘ آریہ سماج کی گولڈن جبلی کے موقع پر الہ آباد میں ۲۰ مئی ۱۹۶۰ کو ’’سرودھرم سمینن‘‘ کا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page