الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
ایک پروگرام ہوا۔ اس میں مختلف مذاہب کے علماء کو دعوت دی گئی کہ وہ سیمیلین میں شریک ہو کر مندرجہ ذیل عنوان کے تحت اپنے اپنے مذہب کی برتری ثابت کریں۔ ”مانو وکاس کے لیے آپ ہی کے دھرم کو ماننا کیوں آوشیک ہے۔ “ اس دعوت نامے کے جواب میں میں نے اس موقع پر ایک مقالہ پیش کیا جو بعد کو ’منزل‘ کے نام سے شائع ہوا۔
۱۹۷۶ء سے اس سلسلے میں میری زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ اس سال میں نے ایک مسلم۔ کرچن ڈائیلاگ میں شرکت کی جو لیبیا کی راجدھانی طرابلس میں ہوا تھا۔ اس میں اسلام کی طرف سے جامعۃ الازہر (قاہرہ) نے شرکت کی، اور ویٹکن (روم) نے مسیحیت کی طرف سے نمائندگی کی۔ اس کی دعوت پر میں نے اُس میں شرکت کی اور زیر بحث موضوع پر ایک مقالہ (انگریزی زبان میں) پیش کیا۔ میری اس شرکت کی تفصیل ’سفر نامہ‘ جلد اول میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد عالمی سفروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر مسلسل طور پر مختلف مذاہب کی عالمی کانفرنسیں ہوتی رہتی ہیں۔ مجھے ان کانفرنسوں میں ہر جگہ بلایا جانے لگا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ میرے بارے میں یہ مشہور ہو گیا کہ وہ مسلم علماء میں معتدل اور سائنٹفک ذہن کے آدمی ہیں اور اسلام کی پر امن تشریح پیش کرتے ہیں۔ اس طرح مجھے یہ موقع مل گیا کہ میں ہر جگہ جا کر عالمی اجتماعات میں اسلام کی تعلیمات کو مثبت انداز میں پیش کروں۔ یہ اسفار جو تادمِ تحریر جاری ہیں اُن کا مختصر تذکرہ میرے ان سفروں میں دیکھا جا سکتا ہے جو برابر الرسالہ میں چھپتے رہتے ہیں۔ ان سفروں کے تجربات بہت سبق آموز ہیں۔ مثلاً میں نے غیر مسلموں کے ایک اجتماع میں اسلام کا تعارف پیش کیا۔ اس میں میں نے کہا کہ اسلام اپنے ماننے والوں کے اندر انسانی خیر خواہی کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ وہ اہلِ ایمان کو انسان دوست (insan friendly) بناتا ہے۔ آخر میں ایک غیر مسلم نے کھڑے ہو کر کہا کہ آج میں نے اسلام کا سچا تعارف حاصل کیا۔ اب میں نے یہ طے کیا ہے کہ آج سے میں نہ صرف انسان فرینڈلی بنوں گا بلکہ اسی کے ساتھ میں اسلام فرینڈلی بھی بنوں گا۔ اسی طرح میری ایک تقریر ایک یونیورسٹی کے ہال میں ہوئی۔ اس تقریر میں میں نے بتایا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues