الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶
اس منفی ماحول میں غالباً ماہنامہ الرسالہ پہلا اشاعتی پروگرام تھا جو خالص مثبت ذہن کے تحت شروع کیا گیا اور برابر مثبت ذہن کے تحت جاری رہا۔ کوئی بھی شخص جو الرسالہ اور دوسرے جرائد کا تقابلی مطالعہ کرے گا وہ اس فرق کو تسلیم کرے گا، خواہ وہ اس سے اتفاق کرتا ہو یا نہ کرتا ہو: عرب دنیا میں ایک عربی شاعر کا یہ شعر مدتوں سے گونج رہا تھا:
هاتِ صلاحَ الدين ثانية فينا جَدَّي حِطّين أو شبه حطّينا دوسری طرف برصغیر ہند میں مسلم شاعر کا یہ شعر گرمی مجلس کا ذریعہ بناہوا تھا: آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے کیا کسی کو، پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے ان حالات میں ماہنامہ الرسالہ پوری مسلم دنیا میں ایک صحافتی استثناء کے طور پر ابھرا۔ اُس نے لوگوں کو بتایا کہ زندگی کا راز پرامن جدوجہد میں ہے نہ کہ متشدّد دانہ جدوجہد میں۔ نیز یہ کہ موجودہ زمانہ میں عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) کے ظہور کے بعد مُسَلَّح جدوجہد یا جنگی کارروائی عملاً بے فائدہ ہوچکی ہے کیوں کہ اب تشدّد کا طریقہ صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو(counterproductive) ثابت ہوگا، وہ کسی مثبت نتیجہ تک پہنچنے والا نہیں۔ الرسالہ جیسے ایک ماہنامہ کو شائع کرنا میرے لیے ایک مشکل ترین کام تھا۔ اُس زمانے میں دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان مسٹّرتنویر احمد رہتے تھے۔ اُن سے میں نے ذکر کیا کہ میں ایک ماہنامہ جاری کرنا چاہتا ہوں۔ اُنھوں نے فوراً کہا کہ آپ کا ماہنامہ کبھی نہیں چلے گا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ کے مزاج کو میں جانتا ہوں۔ آپ جو ماہنامہ نکالیں گے وہ ایک سجیسٹیو (suggestive) پرچہ ہوگا۔ جب کہ آج کا انسان صرف انفرمٹیو (informative) پرچہ پسند کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ آپ کا رسالہ اگر معلوماتی رسالہ ہو تو لوگ معلومات کو جاننا چاہتے ہیں، مگر لوگوں کو یہ بتانا کہ تم یہ کرو اور وہ نہ کرو، ایک غیر مطلوب آواز ہے۔ کیوں کہ آزادی کے اس دور میں ہر انسان اپنا رہنما آپ ہے، وہ کسی اور کو اپنا رہنما بنانے کے لیے تیار نہیں۔
اسی طرح میں نے جس سے بھی مشورہ لیا اُس نے یہی مشورہ دیا کہ آپ ہرگز کوئی ماہنامہ نہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues