الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۷
نکالیں کیوں کہ وہ لازمی طور پر نا کام ہو جائے گا۔ اردو کے تجربہ کار صحافی بانی ’’ نئی دنیا‘‘ مولا نا عبد الوحید صدیقی (وفات : ۱۹۸۶) اُس وقت نظام الدین ایسٹ میں رہتے تھے اور میں پرانی دہلی میں جمعیت بلڈنگ کے ایک کمرے میں رہتا تھا۔ ایک دن میں ان سے مشورہ لینے کے لیے نظام الدین ایسٹ گیا۔ جب میں ان کے گھر پہنچا تو اُس وقت وہ بیمار تھے اور اپنے کمرے میں بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ اُن سے میں نے کہا کہ میں ماہنامہ الرسالہ جاری کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر وہ اُٹھ کر اپنے بستر پر بیٹھ گئے اور کہا کہ ماہنامہ نہ نکالنے کا نام بھی نہ لیجئے ۔ کیوں کہ اس قسم کا ماہنامہ کبھی چلنے والا نہیں۔ غرض ہر ایک سے مجھے مایوس کن مشورہ ملا۔ میں ان منفی مشوروں سے بہت پریشان ہوا اور دعائیں کرنے لگا۔ پھر ایک رات میں نے اس معاملے پر استخارہ کیا۔ عشاء کے بعد دو رکعت استخارے کی نماز ادا کر کے دعا کی اور سو گیا۔ رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ اس خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی گائے ہے جس کا دودھ خشک ہو چکا ہے۔ میں ایک بڑی بالٹی لے کر آتا ہوں، میں نے اس بالٹی کو گائے کے تھن کے نیچے رکھا اور اپنے ہاتھ سے دودھ نکالنے لگا۔ وہاں آس پاس کئی لوگ موجود تھے۔ وہ ہنس کر کہہ رہے تھے کہ دیکھو ، اس نادان کو وہ سوکھی گائے سے دودھ نکالنا چاہتا ہے۔ مگر جب میں نے اپنا ہاتھ گائے کے تھن سے لگایا تو اس سے دودھ نکلنے لگا۔ اور پھر دودھ اتنا زیادہ نکلا کہ پوری بالٹی بھر گئی اور دودھ بالٹی سے نکل کر زمین پر بہنے لگا۔
اس خواب کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ماہنامہ ’’الرسالہ‘‘ جاری کرنا ہے۔ رسالے کا یہ نام ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں (پیدائش ۱۹۳۸) نے تجویز کیا تھا۔ میں نے اپنے بڑے بھائی عبد العزیز خاں صاحب سے پانچ ہزار روپے کا ابتدائی عطیہ لیا اور اکتوبر ۱۹۷۶ میں الرسالہ کا پہلا شمارہ شائع کر دیا۔ ماہنامہ الرسالہ کا اجراء میں نے بے سروسامانی کے عالم میں کیا تھا۔ اُس کے ابتدائی دور میں عبد العزیز خاں مرحوم کے علاوہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کا تعاون میرے لیے بہت مددگار ثابت ہوا۔ اُن کا یہ قیمتی تعاون کئی سال تک مسلسل جاری رہا۔ بعد کے دور میں ماہنامہ الرسالہ کے قیام و بقا میں سب سے زیادہ حصہ ڈاکٹر ثانی اثنین خاں (پیدائش 1959) کا رہا ہے۔ یہ سب کچھ بلاشبہ اللہ کی توفیق سے ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues