Al-Risala · February 2006 · page 18

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸

الرساله جاری کرنے سے پہلے میں اردو دنیا میں معروف ہو چکا تھا۔ میرے مضامین بہت سے اردو اخباروں اور رسالوں میں چھپ چکے تھے۔ مثلاً نگار، شاعر، پیام تعلیم، عصمت، ندائے ملت، الفرقان، دعوت، زندگی وغیرہ۔ اس کے علاوہ سہ روزہ ”الجمعیتہ“ میں ایڈیٹر کی حیثیت سے ۱۹۶۷ سے لے کر ۱۹۷۲ تک برابر میرے مضامین چھپتے رہے تھے۔

اس طرح ماہنامہ الرسالہ جاری کرنے سے پہلے ہی میرا ایک وسیع حلقۂ تعارف بن چکا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر لوگوں کے علم میں یہ بات آجائے کہ میں ایک ماہنامہ نکال رہا ہوں تو ضرور وہ اس کے خریدار بن جائیں گے۔ مگر یہاں غیر متوقع طور پر ایک حادثہ پیش آیا۔ مسلم جماعتوں اور مسلم اداروں کے اخبارات اور رسائل میں الرسالہ کا اشتہار چھاپنے کے لیے دیا گیا، مگر قیمت ادا کرنے کے باوجود اُن میں سے کوئی بھی الرسالہ کا اشتہار چھاپنے پر راضی نہیں ہوا۔ اس واقعے کا ذکر میری ڈائری میں اس طرح آیا ہے:

”احمد دیدات صاحب نے ساؤتھ افریقہ (ڈربن) میں اسلامک پروپیگنڈیش سنٹر قائم کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ادارے کی طرف سے ایک اشتہار ٹائم میگزین (نیویارک) میں چھپنے کے لیے بھیجا۔ یہ قرآن (ترجمہ) کا اشتہار تھا۔ اس اشتہار میں اس قسم کے الفاظ تھے: Establish the kingdom of God on Earth. The Future world Constitution. اس ایک صفحے کے اشتہار کی قیمت ستر ہزار ڈالر تھی۔ مگر ٹائم میگزین نے اس کو چھاپنے سے انکار کر دیا۔ احمد دیدات صاحب کے انگریزی پرچہ (البرہان دسمبر ۱۹۹۰) میں یہ قصہ چھاپا گیا ہے۔ اور یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مغرب کے لوگ اسلام کے بارے میں سخت متعصب ہیں۔

میرے نزدیک یہ طریقہ صحیح نہیں۔ مغرب سے مسلمانوں کو بے شمار فائدے پہنچ رہے ہیں۔ اُن فائدوں کا ذکر نہ کر کے مذکورہ واقعے کو سنسنی خیز انداز میں بیان کرنا سخت مہلک ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر اپنی مدعو قوموں کے بارے میں نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے موجودہ زمانے میں یہی کام مسلسل کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page