Al-Risala · February 2006 · page 19

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹

میرا خود تجربہ ہے کہ جب الرسالہ نکلا تو میں نے اس کا اشتہار اخبار الجمعیة، دعوت، تعمیر حیات اور الكفاح وغیرہ میں دینا چاہا، مگر سب نے انکار کر دیا۔ حالاں کہ ہم اس کی پوری قیمت ادا کر رہے تھے۔ ٹائم نے اگر اسلام دشمنی میں اشتہار نہیں چھاپا تو مذکورہ مسلم پرچوں نے الرسالہ کا اشتہار چھاپنے سے کیوں انکار کیا۔ (ڈائری ۹۱-۹۲ صفحہ ۱۲- ۱۳)

تاہم میرا دعوتی جذبہ میرا رہنما ثابت ہوا۔ آخر کار اللہ کے بھروسے پر میں نے اکتوبر ۱۹۷۶ میں ماہنامہ الرسالہ کا اجرا کر دیا۔

شروع میں نہایت صبر آزما حالات پیش آئے۔ لوگوں نے ہر طرف میرے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ ان کے اندر مستقل مزاجی نہیں ہے، تھوڑے دنوں وہ پرچہ نکالیں گے اور اس کے بعد وہ بند ہو جائے گا۔ اس لیے الرسالہ کو پسند کرنے والے بھی اس کی سالانہ خریداری شروع کرنے میں ہچکچا رہے تھے۔ اُسی زمانے کا واقعہ ہے، میں دہلی شہر میں کسی مقام پر گیا ہوا تھا، واپس ہو کر جمعیة بلڈنگ میں داخل ہوا تو دروازے پر مولا نا اخلاق حسین قاسمی مل گئے۔ اُنھوں نے کہا: آپ نے ماہنامہ الرسالہ تو نکال دیا ہے، کیا اُس کے لیے کچھ فنڈ بھی اکٹھا کیا ہے۔ دیوانگی کے عالم میں میری زبان سے نکلا: کیا خدا سیف سائنڈ (safe side) میں رہے گا۔

یہ دیوانگی کا ایک کلمہ تھا جو اس کیفیت کے ساتھ میری زبان سے نکلا جس کا ذکر حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: رُبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مدفوع بالأبواب، لو أقسم على الله لأَبَرَّہ۔ اس کے بعد ایک تدبیر سمجھ میں آئی۔ میں نے اعلان کر دیا کہ لوگ الرسالہ کی ایجنسی لے کر اُس کو پھیلائیں۔ اگر وہ کسی وقت محسوس کریں کہ ایجنسی کے تحت منگاۓ ہوۓ شمارے فروخت نہیں ہو رہے ہیں تو وہ غیر فروخت شدہ پرچوں کو بھیج کر اُن کی پوری قیمت واپس لے سکتے ہیں۔ یہ تدبیر کارگر ہوئی اور بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے ایجنسی کے تحت الرسالہ منگانا شروع کر دیا۔ اس طرح اچانک الرسالہ ہر جگہ پھیل گیا۔

الرسالہ کی فطری آواز بہت جلد لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے لگی۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page