الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰
محسوس ہوا کہ الرسالہ اسلام کو آج کے انسان کے لیے قابلِ فہم انداز میں پیش کر رہا ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا:
Al-Risala presents Islam as a living force.
خدا کے فضل سے بہت جلد ایسا ہوا کہ الرسالہ کی آواز پھیلنے لگی۔ دنیا کے ہر حصے میں اُس کے پڑھنے والے پیدا ہو گئے۔ اُس کی مقبولیت صرف اُردوخواں طبقے میں نہیں بڑھی بلکہ دوسروں میں بھی۔ بہت سے لوگ جو اُردو نہیں پڑھ سکتے تھے انہوں نے باقاعدہ ٹیوٹر رکھ کر اُردو پڑھی تا کہ وہ براہِ راست الرسالہ پڑھ سکیں ۔ اسی قسم کے ایک صاحب مسٹرکشن جیونت راؤ پائل ( ناندیڑ ) ہیں جن کا ذکر الرسالہ (مارچ ۲۰۰۳ ، صفحہ ۳۸ ) میں آ چکا ہے۔ ایک عرب عالم شیخ محمد سلیمان القائد الرسالہ کے اتنے گرویدہ تھے کہ وہ ایک بنگلہ دیشی عالم کو ایک سو ڈالر ماہانہ دیتے تھے تا کہ وہ الرسالہ کا عربی ترجمہ کر کے انہیں دیا کرے، وغیرہ۔
میں پاکستانی تحریک کا کبھی حامی نہیں رہا۔ مگر عجیب بات ہے کہ پاکستان میں بھی الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ اتنی زیادہ مقبول ہوئیں کہ آج پاکستان کے اکثر پڑھے لکھے لوگ اُس سے واقف ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ ماہنامہ الرسالہ انڈیا کا واحد پرچہ ہے جو ہر مہینے اُسی طرح پاکستان سے شائع ہوتا ہے جس طرح وہ انڈیا سے چھپتا ہے۔ پاکستان کے سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک مجلس میں پاکستانی جرائد سے تعلق رکھنے والے کچھ صاحبان موجود تھے۔ میں نے یہ پوچھا کہ پاکستان میں کون سا دینی ماہنامہ ہے جو مختلف حلقوں میں پڑھا جاتا ہے۔ شرکاء میں سے ایک صاحب نے کہا کہ پاکستان میں تو ایسا کوئی دینی ماہنامہ نہیں۔ اگر کوئی ماہنامہ یہاں مختلف حلقوں میں پڑھا جاتا ہوگا تو وہ ماہنامہ الرسالہ ہی ہوگا۔ الرسالہ شروع سے ایک دعوتی مشن کا ترجمان تھا۔ الرسالہ کی اس نوعیت کو برقرار رکھنے کے لیے مجھے بہت بھاری قیمت دینی پڑی۔ مثلاً الرسالہ میں چھاپنے کے لیے قیمتی اشتہارات مل رہے تھے مگر قصداً اُن کو نہیں لیا گیا۔ کیوں کہ اس سے الرسالہ کا داخلی ماحول متاثر ہو جاتا۔ الرسالہ میں دوسروں کے مضامین نہیں لیے گئے۔ کیوں کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کے ہر مضامین میں کچھ نہ کچھ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues