Al-Risala · February 2006 · page 21

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱

انحراف پایا جاتا ہے۔ مثلاً فرقہ وارانہ تعصب کی بُو، مسلمانوں کے تشدد کی توجیہہ، اپنی قوم کی وکالت، سیاسی سوچ کی آمیزش، صحیح میں غلط کو ملانا، غیر دعوتی انداز اور غیر مسلموں کو مدعو کے بجائے حریف کی حیثیت دینا، وغیرہ۔ چنانچہ مجھے غیر معمولی مشقت اُٹھا کر یہ کرنا پڑا کہ الرسالہ میں صرف میرے مضامین ہوں تا کہ فکری تشکیل و تربیت کے عمل میں کوئی رُکاوٹ نہ پڑے۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مزاج کے تحفظ کے لیے مجھے بہت سی قربانیاں دینی پڑیں۔ اُنہیں میں سے ایک وہ ہے جس کا ذکر ڈائری (۱۹۸۹۔ ۱۹۹۰) میں آیا ہے۔ ڈائری کا یہ حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

”ڈاکٹر عبد الحلیم عویس ریاض کی جامعۃ الامام میں علومِ اجتماعیہ کے پروفیسر ہیں۔ وہ میری تحریروں کے بہت قدرداں ہیں اور سعودی عرب کے اونچے حلقوں سے قریبی روابط رکھتے ہیں۔ اپریل ۱۹۸۶ کے دوسرے ہفتے میں وہ دہلی آئے اور ہمارے مرکز میں ٹھہرے۔ اُن کے اس قیامِ دہلی کا ایک واقعہ الرسالہ اپریل ۱۹۸۷ (صفحہ ۸) میں شائع ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس کی اس آمد کا مقصد یہ تھا کہ الرسالہ کے عربی ایڈیشن کے معاملات طئے کریں۔ ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو انہوں نے راضی کر لیا کہ وہ ترجمہ اور ایڈٹ کرنے کا کام کریں گے۔ انھوں نے پیش کش کی کہ اس کا سارا خرچہ مکمل طور پر سعودی عرب سے پورا کیا جائے گا اور تمام عالم عرب میں اِس کو پھیلایا جائے گا۔

تاہم میں اس پیش کش کو قبول نہ کر سکا۔ کیوں کہ اس میں میرے لیے ذاتی شہرت کا موقع تو بہت تھا، مگر میرا اصل مقصد اس سے حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ اور اس کی وجہ اُن کی یہ شرط تھی کہ اس عربی الرسالہ میں ۵۰ فیصد مضامین الرسالہ والے ہوں گے اور بقیہ ۵۰ فیصد مضامین عرب اہل قلم کے ہوں گے۔ یہ میرے نزدیک فکری رُکون (بنی اسرائیل ۷۴) کے ہم معنی تھا۔ اس لیے میں اس کو قبول نہ کر سکا۔ کیوں کہ میں جانتا تھا کہ عرب اہل قلم

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page