Al-Risala · February 2006 · page 22

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲

عام طور پر سیاسی یا منفی انداز میں لکھتے ہیں۔

۵۰ فیصد کی اس تقسیم کے بعد الرسالہ کا نقشہ کیا ہوتا، اس کی ایک مثال مسلمانوں کے موجودہ پرچے ہیں۔ جن میں ہمیشہ دعوت کے ساتھ غیر دعوت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً ریاض کے ہفت روزہ الدعوة (۱۶ جنوری ۱۹۸۹) میں ڈاکٹر عبد الحلیم عو لیس کا ایک مضمون ہے، جس میں دعوت کو "المفتاح العظیم" بتایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ مسلمان داعی بن کر دوسری قوموں کے اوپر فتح حاصل کریں (صفحہ ۵۰) دوسری طرف اسی عربی پرچے میں ۶ صفحات کا ایک اور مضمون ہے جس کا عنوان ہے: الأقليات المسلمة تواجه خطر الذوبان (یعنی مسلم اقلیت کے لیے اکثریت میں جذب ہونے کا خطرہ)

یہ خطرہ کس کی طرف سے ہے۔ یہ اُنھیں غیر مسلم قوموں کی طرف سے ہے جن کے اوپر دعوت کا کام کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ لوگ جن کو مدعو کہا جاتا ہے۔ گویا ایک ہی پرچے میں ایک طرف مسلمانوں کو داعی بننے پر ابھارا جا رہا ہے اور اسی پرچے میں دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ تمہارا مدعو تمہارے لیے خطرہ ہے۔ یہ بات داعیانہ نفسیات کے سراسر خلاف ہے۔ جو لوگ اس طرح کی منفی نفسیات میں مبتلا ہوں، وہ کبھی دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ ‘‘ (صفحہ ۲۵- ۲۶)

الرسالہ مشن کے سامنے جو نشانہ تھا اس میں ایک اہم پہلو یہ تھا— مغرب کے خلاف مسلمانوں کے منفی ذہن کو ختم کرنا۔ یہ مہم خدا کی توفیق سے مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ اب اس کے اثرات مختلف صورتوں میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسی دینی درس گاہ کا قیام (حیدر آباد) جس کا ذریعۂ تعلیم انگریزی ہو، یہ براہ راست طور پر الرسالہ مشن کا ایک نتیجہ ہے، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر مغربی قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی رائے اہلِ مغرب کے معاملے میں منفی ہوگئی۔ وہ ان سے استفادہ کرنے کے قابل نہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page