الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳
رہے ۔ اس کا سبب مغربی قوموں کا مسلم دنیا پر غلبہ تھا۔ مگر مسلم رہنما یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ یہ غلبہ کسی سازش یا ظلم کا نتیجہ نہیں، وہ فطرت کے اُس قانون کا نتیجہ ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وأما ما ينفع الناس فيمكث في الأرض:
While that which is for the good of mankind remains on earth (13:17)
مغربی قومیں نو آبادیاتی دور کے زمانے میں مسلم ملکوں پر چھا گئیں ۔ ایسا اس لیے ہوا کہ یہ لوگ عملی اور فکری اعتبار سے ایسی چیزیں لائے تھے جو فکری اور عملی اعتبار سے مفید تھیں، اس لیے لوگوں نے نہایت آسانی کے ساتھ اُن کے غلبے کو قبول کر لیا۔ یہ عین وہی معاملہ تھا جو اس سے پہلے خود مسلمانوں کے ساتھ پیش آ چکا تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اہل اسلام دنیا کے بڑے حصے پر غالب آئے۔ یہ غلبہ کسی سازش یا ظلم کا نتیجہ نہ تھا بلکہ یہ اس لیے تھا کہ اُس زمانے میں مسلمان ایک صحت مند تہذیب لے کر ابھرے تھے۔ ان کے ذریعہ لوگوں کو مساوات اور فکری آزادی جیسی صالح قدریں مل گئی تھیں۔ تاہم اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ مسلمان اُس وقت کی دنیا کے لیے جب نافع بنے تو عین فطری قانون کے مطابق، وہ دنیا کے اوپر حاکم بھی بن گئے۔
اس معاملے میں جدید دور کے مسلمانوں کو اس غیر حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر سے بہت نقصان پہنچا۔ وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں وہ انگریزی زبان اور جدید سائنس کے حصول میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ اس بنا پر وہ مغربی قوموں سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جدید قومیں جن علوم کو لے کر ابھری تھیں وہ علوم اسلام کے لیے بے حد مفید تھے۔ یہ گویا دورِ جدید کا علم کلام تھا ۔ لیکن مغرب کے خلاف تعصب کی بنا پر مسلمانوں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام رہے۔
الرسالة مشن کے سامنے اوّل دن سے یہ نشانہ تھا کہ مغرب کے خلاف اس غیر فطری تعصب کو ختم کیا جائے تا کہ مسلمان جدید قوتوں کو اسلام کے حق میں استعمال کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ابتدا میں یہ کام بہت مشکل تھا، مگر اب خدا کے فضل سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں ایک نیا رُجحان اُبھرا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues