Al-Risala · February 2006 · page 24

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴

انھوں نے جدید چیزوں کو اسلام کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر میری کتاب ’’علم جدید کا چیلنج‘‘، پہلی بار جب ١٩٦٦ میں شائع ہوئی تو وہ اسلام اور سائنس کے موضوع پر پورے عالم اسلام کی پہلی کتاب تھی۔ جب کہ آج اس موضوع پر سیکڑوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ اگرچہ اُن میں سے اکثر غیر معیاری ہیں۔

٢٠٠١ میں الرسالہ مشن ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ میں نے جنوری ٢٠٠١ میں اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر سنٹر فار پیس اینڈ اسپرچوئلٹی (Center for Peace and Spirituality) CPS قائم کیا۔ اس ادارے کا خاص مقصد اسلام کا عمومی تعارف تھا۔

CPS کا مقصد Peace اور Spirituality کو فروغ دینا ہے۔ یہ کام بہت پہلے سے کیا جا رہا تھا۔ مگر جنوری ٢٠٠٥ میں اس کو ایک مستقل نام کے ساتھ شروع کیا گیا۔

Peace اور Spirituality دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دراصل یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ داخلی انسانی سطح پر جس چیز کو Spirituality کہا جاتا ہے اسی کے خارجی اظہار کا نام Peace ہے۔ عام طور پر مانا جاتا ہے کہ Peace اور Spirituality صحت مند سماج اور بیٹر ہیومن لائف (better human life) بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ مگر عام طور پر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ کیا جاتا ہے کہ crowd کو address کیا جاتا ہے۔ مگر اس عمل کا starting point کبھی crowd نہیں بن سکتا۔ روحانی بیداری کے مقصد کو حاصل کرنے کی ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ individual مائنڈ کو address کیا جائے۔ اس معاملے میں پہلا کام یہ ہے کہ انفرادی ذہن کی تشکیل نو کر کے افراد کی ایک ٹیم بنائی جائے۔ پھر افراد کی اس ٹیم کو سماج کی نئی تشکیل و تنظیم کے لیے استعمال کیا جائے۔

CPS اسی نظریہ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم یافتہ افراد کو تیار کیا جا رہا ہے تا کہ یہ تربیت یافتہ افراد سوسائٹی کے مختلف طبقات تک پہنچیں اور اس طرح کسی بڑے حقیقی انقلاب کا باعث بنیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page