Al-Risala · February 2006 · page 25

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵

اس مقصد کے لیے CPS کے تحت، دہلی میں اسپر یچول کلاس قائم کیا گیا جو خدا کے فضل سے غیر متوقع حد تک کامیاب رہا۔

اس کے آغاز کی کہانی بہت سبق آموز ہے۔ دہلی کے کچھ ہندو نو جوان (رجت ملہوترا، پر یاملک وغیرہ) یہ لوگ انگریزی تعلیم یافتہ تھے اور کئی سال سے سچائی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ پہلے وہ مختلف فلسفوں اور مختلف مذہبوں کا مطالعہ کرتے رہے۔ آخر میں وہ اسلام کے مطالعے کی طرف راغب ہوئے۔ کسی نے اُن کو مشورہ دیا کہ تم دہلی میں جماعت اسلامی کے مرکز میں جاؤ۔ وہاں تم کو اسلام پر انگریزی لٹریچر پڑھنے کے لیے ملے گا۔ چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر عبدالحق انصاری سے ملے، اور اُن سے اسلام پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر انصاری نے ان کو مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی ایک درجن سے زیادہ کتابوں کے انگریزی ترجمے دیے ۔

ان انگریزی کتابوں کے پڑھنے کے بعد یہ ہندو نو جوان دوبارہ ڈاکٹر انصاری سے ملے۔ انھوں نے ڈاکٹر انصاری سے کہا کہ آپ کی دی ہوئی کتابیں ہم نے پڑھ لیں، مگر یہ کتابیں ہمارے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتی ہیں۔ یہ کتابیں مسلمانوں کو خطاب کرتی ہیں، ہمارے جیسے لوگ جو سچائی کے متلاشی ہیں، ان کے لیے یہ کتابیں مفید نہیں۔

یہ گفتگو جماعت اسلامی کے مرکز میں امیر جماعت کے آفس میں ہوئی۔ اُس وقت جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری وہاں موجود تھے۔ انھوں نے ہندو نو جوانوں کی یہ ساری باتیں سنیں اور پھر اُن سے کہا کہ آپ کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا مسلم دنیا میں صرف ایک ہی آدمی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے میرا نام بتایا۔ چنانچہ یہ ہندو نو جوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے میری کتابیں پڑھیں اور ہمارے اسپر یچول کلاس سے مستقل طور پر وابستہ ہو گئے۔

اسپر یچول کلاس کے بارے میں کچھ باتیں ماہنامہ الرسالہ میں چھپتی رہی ہیں۔ یہ اسپر یچول کلاس حقیقتاً اسلامی کلاس ہے۔ میرے اندازے کے مطابق، جدید دور میں اس قسم کی کلاس پہلی بار قائم ہوئی۔ میں جانتا ہوں کہ ساری مسلم دنیا (بشمول عرب) میں مختلف ناموں کے ساتھ حلقے قائم ہوتے رہے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page