Al-Risala · February 2006 · page 26

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۶

ہیں۔ مگر یہ تمام حلقے دو قسم کے موضوعات کی بنیاد پر قائم ہوئے رواجی موضوعات، یا قومی موضوعات ۔ مثلاً عرب دنیا میں اسرائیل کا مسئلہ پیدا ہوا تو جگہ جگہ ایسے حلقے قائم ہو گئے جہاں لوگ جمع ہو کر اسرائیل کے مسئلے پر گفتگو کرتے تھے۔ اسی طرح پاکستان میں جب سیکولر مسلمان پاکستان کے حاکم بن گئے تو وہاں کے اسلام پسند لوگ مختلف ناموں کے تحت اکٹھا ہو کر ان کے خلاف سیاسی مذاکرے کرنے لگے۔

اسپرچول کلاس کا مقصد اس کے برعکس یہ تھا کہ آج کا تعلیم یافتہ طبقہ، ہند اور مسلمان دونوں جس فکری مستوی (intellectual level) پر اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے، اس فکری مستوی پر اسلام کو اُس کے لیے قابل فہم بنانا۔ جو لوگ اسپرچول کلاس میں برابر شریک ہوتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ میری فکر کو انھوں نے میری تحریروں سے اتنا نہیں سمجھا تھا، جتنا کہ اسپرچول کلاس میں میری باتیں سُن کر سمجھا۔ یہ اسپرچول کلاس وہی ہے جس کو روایتی الفاظ میں ”صحبت‘‘ کہا جاتا ہے۔ صحبت کی صورت میں مسائل کی وضاحت جس طرح ہوتی ہے، تحریر کے ذریعے اُس طرح ممکن نہیں۔

اسپرچول کلاس کے تمام ممبران انگریزی خواں لوگ تھے۔ میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ انگریزی کی اچھی تعلیم پائے ہوئے ہوتے ہیں، کم از کم میرے لیے اُن کے سامنے اسلام کی وضاحت زیادہ آسان ہوتی ہے۔ جو لوگ روایتی انداز میں اسلام کو سمجھتے ہیں یا روایتی انداز میں کلام کرتے ہیں۔ اُن کا معاملہ اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔ لیکن میں چوں کہ اسلام کو جدید تقاضوں کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اس لیے میرا ایک خاص اسلوب بن گیا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، یہ اسلوب جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے زیادہ قابل فہم ہوتا ہے۔

اسپرچول کلاس کا طریقہ شروع ہی سے یہ رکھا گیا کہ اُس کا ہر ممبر اپنے ساتھ ڈائری رکھتا ہے اور تمام باتوں کو نوٹ کرتا ہے۔ تمام لوگ اپنی ڈائریاں انگریزی میں لکھتے ہیں۔ اس طرح ڈائریوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تیار ہو گیا ہے۔ آئندہ کسی وقت مرتب کر کے اُس کو کتاب کی صورت میں شائع کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page