Al-Risala · February 2006 · page 27

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷

مئی ۲۰۰۵ سے اس میں یہ اضافہ ہوا کہ ٹیم کے ایک ممبر نے بطور خود یہ کیا کہ وہ اپنے ساتھ کمپیوٹر (لیپ ٹاپ) لاتے ہیں اور جب میں کسی موضوع پر بولتا ہوں تو ساتھ ساتھ وہ اس کو انگریزی میں ٹائپ کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح کچھ لوگ بدستور کلاس کی باتوں کو ہاتھ سے لکھتے ہیں، اور ایک صاحب اس کو کمپیوٹر پر ریکارڈ کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ٹیم کے ایک ممبر نے یہ کام شروع کیا ہے کہ وہ لوگوں کی پچھلی تمام ڈائریوں کو پڑھ کر اُس کو ایڈٹ کر رہے ہیں اور پھر اُس کو کمپیوٹر پر ٹائپ کر رہے ہیں۔ اسپرچول کلاس کے دوران ایک اور تجربہ یہ ہوا کہ یہ بات سمجھ میں آئی کہ تزکیہ (البقرہ ۱۲۹) کیا ہے۔ جب لوگ اس ہفتہ واری کلاس میں آئے تو مجھ سے گفتگو کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ہر آدمی ایک کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) ہے اور وہ اُسی میں جی رہا ہے۔ ہر آدمی اپنے گھر، اپنے ماحول اور اپنے اختلاط کے دوران جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اُس سے مسلسل طور پر اُس کا ذہن بنتا رہتا ہے۔ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی فطری حالت پر ہوتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ انسان ہوتا ہے۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ اُس پڑی کنڈیشننگ (de-conditioning) کا عمل کیا جائے۔

تزکیہ دراصل اسی ڈی کنڈیشننگ کا نام ہے۔ تزکیہ کے لفظی معنی ہیں: پاک کرنا (purification)۔ روایتی طور پر اس کو تزکیہ قلب کے معنی میں لیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد تزکیہ ذہن ہے۔ آدمی کا ذہن ہی اُس کے تمام افعال کا مرکز ہے۔ ذہنی سطح پر بگڑی ہوئی سوچ کو دوبارہ صحیح سوچ بنانا، اسی کا نام تزکیہ ہے اور اسی کے ذریعے فکری اور عملی اعتبار سے وہ شخصیت بنتی ہے جس کوروحانی شخصیت یا ربانی شخصیت کہا جاتا ہے۔

میرا تجربہ ہے کہ لوگ عام طور پر کنفیوژن میں جیتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب ہمارے اسپرچول کلاس میں آئے ۔ وہ ایک انٹرنیشنل امریکن کمپنی میں منیجر ہیں ۔ یہاں ، امریکی اصول کے مطابق ، ہائر اینڈ فائَر (hire and fire) کا اصول رائج ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلسل تناؤ میں رہتا ہوں ۔ ہر وقت جاب کھونے کا اندیشہ (fear of losing job) میرے دماغ پر چھایا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page