الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۸
رہتا ہے۔ میں نے نصیحت کے طور پر اُن کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:
One can take away your job. But no one has the power to take away your destiny. تزکیہ کو عام طور پر تزکیۂ قلب کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے اور روایتی تصور کے مطابق، تزکیۂ قلب کا ذریعہ صوفیانہ اور ادود و وظائف ہیں۔ جب کوئی شخص ان اوراد و وظائف میں زیادہ مشغول ہوتا ہے تو اس کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسی کیفیت کو عام طور پر تزکیہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ ایک بے اصل بات ہے۔ یہ قلبی کیفیت جو پیدا ہوتی ہے وہ دراصل وَجْد (ecstacy) ہے۔ اور وجد کا کوئی بھی تعلق تزکیۂ رُوحانی سے نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں انسانی فکر کے دو دَور ہیں۔ قبل سائنس دَور، اور بعد سائنس دَور۔ قبل سائنس دَور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب جذباتِ انسانی کا مرکز ہے۔ اس لیے صوفیانے تزکیۂ روحانی کے لیے قلب کو مرکز بنایا۔ اور سالکینِ طریقت کے لیے مبنی بر قلب وظائف تجویز کیے۔ ان وظائف میں اشتعال سے چوں کہ سالکین کو وجد کی سی ایک کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ ان لوگوں نے اسی وجد کو غلط طور پر معرفت سمجھ لیا، حالاں کہ معرفت ایک شعوری حالت ہے، جب کہ وَجْد صرف ایک مجہول احساس کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سمجھ لیا گیا کہ یہ طریقہ حصولِ تزکیہ کے لیے مفید ہے۔ مگر وجد کی کیفیت سرتا سرا یک غیر متعلق کیفیت ہے جو ہندو طریقے پر میڈی ٹیشن (meditation) کے ذریعے بھی حاصل ہوتی ہے۔
بعد سائنس دَور میں یہ نظریہ متروک ہو چکا ہے۔ اب انسان کے علم میں یہ بات آ چکی ہے کہ فکر و جذبات اور احساس کا مرکز تمام تر ذہن (mind) ہے۔ اس لیے تزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ذہن کی تفکیری اصلاح کی جائے ۔ یہی تزکیہ کا اصل طریقہ ہے۔ اسپرچول کلاس میں اسی طریقِ تزکیہ کو اختیار کیا گیا ہے۔ ایک صوفی سے پوچھا گیا کہ تصوف کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تصوف کا مطلب تصور ہے۔ میرے نزدیک قرآن کے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ تصوف کا مطلب توسُّم (الحجر ۷۵) ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues