Al-Risala · February 2006 · page 29

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹

تو سم کا مطلب ہے، مادی تجربات کو معرفت میں ڈھال لینا:

Translating material events into spiritual experience. روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ معرفت کا ذریعہ صحبت ہے۔ یعنی کسی بزرگ کے پاس بیٹھنے سے پر اسرار طور پر آدمی کے اندر ربانی معرفت پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا کہ حصول معرفت کا ذریعہ صرف کسی بزرگ کی صحبت ہے نہ کہ تدبر و تفکر اور ذاتی محنت۔ یہ نظریہ مزاجِ اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام کے مطابق، ہر آدمی اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ اس دنیا کے لیے خدائی قانون یہ ہے کہ: ليس للإنسان إلا ما سعى (النجم ۳۹) ایسی حالت میں یہ ماننا کہ ذاتی عمل کے بغیر صرف کسی صحبت سے روحانیت یا ربانیت حاصل ہوسکتی ہے، ایک متضاد نظریہ ہے۔ کیوں کہ یہ نظریہ اُس حکمت کی نفی کر رہا ہے جس کو امتحان کہا جاتا ہے۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو، ربانی بنو (كونوا ربانيين ، آل عمران ۵۹) ربی کے لفظی معنی ہیں: رب والا۔ ربانی اسی کا مبالغہ ہے۔ یعنی بہت زیادہ رب والا۔ ربی یا ربانی کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے مُراد ہے: خدا رخی سوچ (God oriented thinking) یا خدا رُخی زندگی (God oriented life)۔ یعنی انسان کی وہ حالت جب کہ اس کی سوچ کا مرکز خدا بن جائے، جب کہ اس کے جذبات و احساسات پر تمام تر خدا کا غلبہ ہو جائے، جب کہ خدا کی یاد اس کی ہستی میں پوری طرح سما جائے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو روحانیت (spirituality) کہا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے اکثر شعبوں کی طرح، روحانیت کے دو دور ہیں — قبل سائنس دور (pre-scientific era) اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جذبات و احساسات کا مرکز قلب (heart) ہے۔ چنانچہ اُس زمانے میں رُوحانیت کے حصول کا ذریعہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب پر فوکس ڈال کر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ سادھوؤں کا میڈیٹیشن (meditation) اور صوفیوں کا مُر اقبہ اسی طرزِ فکر کا نتیجہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page