Al-Risala · February 2006 · page 30

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۰

مگر بعد سائنس دور میں یہ نظریہ بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ اب متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ قلب صرف گردش خون (sirculation of blood) کا ذریعہ ہے۔ سوچ اور احساسات کا مرکز تمام تر انسان کا دماغ ہے۔ سرجری کی ترقی کے بعد یہ کیا گیا کہ آپریشن کر کے انسان کے قلب کو اس کے سینے سے نکال لیا گیا اور اس کی جگہ پیس میکر(pace maker) لگا دیا گیا جو مصنوعی طور پر خون کو پمپ کرنے کا کام کر رہا تھا۔

آپریشن کے بعد اُس انسان کا سینہ قلب سے بالکل خالی ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود اس کی سوچ اور اس کے احساسات ٹھیک ویسے ہی باقی رہے جیسا کہ وہ اُس وقت تھے جب کہ فطری قلب اس کے سینے میں موجود تھا۔ اس طرح کے آپریشن کے بعد یہ ثابت ہوا کہ فکر اور احساس کا مرکز مکمل طور پر دماغ ہے نہ کہ قلب۔

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث میں بھی قلب کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا کہ دماغ کے علاوہ قلب بھی سوچ اور جذبات کا مرکز ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ قرآن میں ایسے مواقع پر قلب کا ذکر اس کے ادبی استعمال کے اعتبار سے ہے نہ کہ اس کے سائنسی مفہوم کے اعتبار سے۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ قرآن میں سوچ کے عمل کے لیے صرف قلب کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے بلکہ عقل اور لبّ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ دونوں لفظ قرآن میں تقریباً ۶۵ بار استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جو بالواسطہ طور پر دماغی عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً توَسُّم اور تفکّر وغیرہ۔

اس کے علاوہ قرآن میں جس مفہوم کے لیے قلب کا لفظ آیا ہے ٹھیک اُسی مفہوم کے لیے متعدد آیتوں میں سَمْع اور بَصَر کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً: لہم قلوب لا یفقھون بھا، ولھم أعین لا یبصرون بھا، ولھم اذان لا یسمعون بھا (الاعراف ۱۷۹)

اگر اس طرح کی آیتوں کی بنیاد پر یہ مانا جائے کہ سوچ کے عمل کا تعلق قلب سے ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آنکھ اور کان کا تعلق بھی سوچ سے ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں میں دیکھنے اور سننے کے جس عمل کا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page