Al-Risala · February 2006 · page 31

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۱

ذکر ہے اس سے مراد سادہ طور پر کیمرہ یا ٹیپ رکارڈر کی طرح دیکھنا اور سننا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ دیکھنا اور سننا ہے جس میں سوچ بھی شامل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جہاں عقل اور لب کا حوالہ ہے وہاں اُس سے براہِ راست دماغی عمل مراد ہے اور جہاں آنکھ، کان اور دل کے الفاظ آئے ہیں وہاں یہ الفاظ اپنے معروف ادبی مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس طرح بعد سائنس دور میں تصوف یا رُوحانیت کا علم پوری طرح بدل گیا ہے۔ اب رُوحانیت کا تعلق قلبی وظائف سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ذہنی ارتقا کے ایک خاص مرحلے سے ہے۔

اسپرچول کلاس میں میں نے اسی اصول پر لوگوں کا تزکیہ کیا اور ان کے اندر روحانیت لانے کی کوشش کی۔ خدا کے فضل سے نتیجہ صد فی صد کامیاب رہا۔ ہمارے کلاس میں ایسے کئی افراد شریک ہوئے جنہوں نے بتایا کہ وہ برسہا برس تک ہندو گروؤں اور مسلم صوفیوں کے یہاں روحانیت کے حصول کی کوشش کرتے رہے مگر انہیں روحانیت نہیں ملی۔ جب کہ ہمارے کلاس میں اُن کو اپنی مطلوب رُوحانیت حاصل ہوگئی۔

الرسالہ مشن میرے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ لمبی تحقیق اور مطالعے کے بعد اسلام کو میں نے گویا از سر نو دریافت کیا۔ مگر یہ دریافت میرے لیے کوئی آسان کام نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دریافت تک پہنچتے پہنچتے میں اپنا سب کچھ کھو چکا تھا۔ اپنے خیال کے مطابق، میرے پاس فکرِ صحیح کا سرمایہ تھا مگر اس فکر کے مطابق عمل کرنے کے لیے میرے پاس اُن چیزوں میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی جو کسی نئے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اُس زمانے میں میری جو نفسیات تھی اُس کا اندازہ میری کتاب’’ الاسلام‘‘ کے ابتدائی صفحے سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ صفحہ میں نے ستمبر ۱۹۷۵ میں لکھا تھا۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں اس کتاب کو لکھ کر مَر جاؤں گا اور شاید میری زندگی میں اس کے چھپنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ کتاب کی ان تمہیدی سطروں میں میں نے ایک ناول کی کہانی نقل کی تھی۔ یہ ایک انسان کی کہانی تھی جو سچائی کی تلاش میں تھا، اور آخر میں عین اُس وقت مر گیا جب کہ اُس نے فکری طور پر سچائی کو دریافت کر لیا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page