Al-Risala · February 2006 · page 32

الرساله مشن

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۲

تھا۔ اس کہانی کو نقل کرنے کے بعد میں نے لکھا تھا :

اس کہاں اس رائے کے بدلے میں لاتا۔

"یہ کتاب میری طویل تلاش کا جواب ہے۔ میں شاید نظریاتی چٹان کی سیڑھیاں کاٹ چکا تھا کہ میرے سامنے دوسرا پہاڑ آ کر کھڑا ہوگیا۔ اب ضرورت تھی کہ دریافت کردہ حقیقت کی روشنی میں اسلام کی مہم کو عملی طور پر چلایا جائے۔ مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری طاقت ختم ہوگئی۔ ماضی کی شدید جدوجہد نے مجھے قبل از وقت بوڑھا بنا دیا۔ " نظریاتی سیڑھیاں‘‘ کاٹنے میں میں نے اپنی عمر تمام کردی۔ اب ’’عملی سیڑھیاں‘‘ کس طرح کاٹوں۔ تاہم میرے اطمینان کے لیے کافی ہے کہ میں نے سچائی کو کم از کم فکری طور پر دریافت کر لیا۔ اب شاید میں یہ کہتے ہوئے مر سکتا ہوں کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ ‘‘ (صفحہ ۵) تاہم خدا کی مدد شامل ہوئی اور میری دریافت ایک مشن بن کر ہر طرف پھیل گئی۔ اور وہ مسلسل پھیلتی جارہی ہے۔ مخالفتوں کے طوفان کے باوجود یہ سفر پوری طرح جاری ہے۔ بظاہر اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے کہ وہ اسی طرح جاری رہے یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ آخر میں میں اپنے ایک احساس کا ذکر کروں گا۔ یہ احساس صحیح ہے یا غلط ، اس کا فیصلہ صرف خدا کرسکتا ہے۔ تاہم میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ میں اپنے اس احساس کو یہاں درج کروں۔ ایک مشہور روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اہل کتاب ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے اور امت مسلمہ ۷۳ فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے ۷۲ فرقے آگ والے ہیں۔ صرف ایک جنت والا ہے۔ یہ ایک فرقہ "الجماعت" ہے (ابو داؤد) "الجماعت" سے کیا مراد ہے۔ اس کی تشریح ترمذی کی ایک روایت سے ہوتی ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے خدا کے رسول ! یہ الجماعت کون لوگ ہیں۔ آپ نے جواب دیا: جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں (من کان علی ما أنا عليه وأصحابى)

میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page