ہیں ی کے بڑوں
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳
یہ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر سیکڑوں تحریکیں اٹھیں ، مگر غالباً الرسالة مشن ہی واحد مشن ہے جس کے بارے میں سب سے زیادہ یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ "اکابر" پر تنقید کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اسلاف سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ دوسری طرف ہمارے کسی ناقد نے یہ نہیں کہا کہ ہم قرآن وحدیث سے ہٹے ہوئے ہیں ، یا ہماری تحریروں کے پڑھنے سے نعوذ باللہ رسول اور اصحاب رسول سے بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ الرسالة مشن صرف قرآن وسنت اور اسوہ صحابہ کو حق کا معیار سمجھتا ہے۔ بالفاظ دیگر ، گویا خود ہمارے ناقدین کی شہادت کے مطابق ، وہ "ما انا علیہ واصحابی" کا مصداق ہے۔
اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور اصل معاملے پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ حضرات خود اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ الرسالہ مشن ”ما أنا عليه وأصحابي“ کے اصول پر قائم ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے دوسرے مشن اپنے مفروضہ اکابر کے دین پر قائم ہیں۔ اس معاملے کو منطقی حد تک لے جائے بغیر میں کہوں گا کہ ہمارے ناقدین ہم کو ایک ایسا سرٹیفکٹ دے رہے ہیں جس سے بڑا کوئی جاتے ہیں۔ وہ اس کے بارے میں کہہ دیں سرٹیفکیٹ بلاشبہ اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔
ہیں ی کے بڑوں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues