Al-Risala · February 2006 · page 34

جدید تعلیم یافتہ مسلمان

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴

جدید تعلیم یافتہ مسلمان

میں جس دور میں پیدا ہوا اور جس مسلم ماحول میں میری پرورش ہوئی ، وہ مغربی تعلیم کے بارے میں منفی سوچ میں مبتلا تھا۔ ہر لکھنے اور بولنے والا مسلمان انگریزی تعلیم یا مغربی تعلیم کو اسلام کے لیے بہت بڑا خطرہ بتاتا تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ مغربی تعلیم مسلمانوں کو ڈی اسلامائز کرنے کی ایک سازش ہے۔ اقبال (وفات: ۱۹۳۸) کی پوری شاعری مغربی تعلیم اور تہذیب کے بارے میں صرف منفی ذہن بناتی ہے۔ اکبر الٰہ آبادی (وفات: ۱۹۲۱) نے اس نقطہ نظر کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا تھا : بچوں کے کبھی قتل سے بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر آزادی ہند (۱۹۴۷) سے پہلے کے دور میں اتنا زیادہ مشہور ہوا کہ ہر جگہ اس کی گونج سنائی دینے لگی۔ مولا نا سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: ۱۹۷۹) نے اس نقطہ نظر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’ برٹش حکومت نے انڈیا میں کالج اور یونیورسٹی کا جو تعلیمی نظام قائم کیا ہے، وہ مسلمانوں کے لیے قتل گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ‘‘ بیسویں صدی کے وسط میں ڈاکٹر رفیع الدین (وفات: ۱۹۶۹) کی مشہور کتاب ’’ قرآن اور علم جدید‘‘ شائع ہوئی۔ اس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا تھا کہ موجودہ زمانے کے وہ مسلمان جنھوں نے جدید طرز کی مغربی تعلیم پائی ہے، وہ ایک قسم کے ذہنی ارتداد میں مبتلا ہیں۔ یہ نقطہ نظر مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا۔ مولا نا ابوالحسن علی ندوی (وفات: ۱۹۹۹) نے اس کی تائید میں ایک تقریر کی جو عربی زبان میں ایک پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ اس پمفلٹ کا نام تھا: ردّة ولا ابا بکر لہا (ایک ارتداد ہے، مگر اس سے مقابلے کے لیے کوئی ابوبکر نہیں)۔

مغربی طرز کی تعلیم سے جو مسئلہ پیدا ہوا، اس کے خلاف تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان اسی قسم کی منفی رائے زنی کر رہے تھے۔ کسی نے بھی گہرائی کے ساتھ اس مسئلے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ میں لمبی مدت تک اس موضوع پر مطالعہ کرتا رہا اور دعائیں کرتا رہا۔ آخر کار خدا کی توفیق سے مجھ پر یہ بات

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page