Al-Risala · February 2006 · page 35

جدید تعلیم یافتہ مسلمان

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵

کھلی کہ یہ معاملہ ذہنی ارتداد(intellectual apostasy) کا نہیں ہے بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان (intellectual discontent) کا معاملہ ہے۔

اصل یہ ہے کہ سیکڑوں سال سے اسلام کو ایک خاص روایتی انداز میں پیش کیا جارہا تھا۔ قبل سائنس دور (pre-scientific era) میں یہ روایتی اسلوب لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کافی تھا۔ کیوں کہ لوگوں کا طرزِ فکر بھی روایتی تھا، اور تفہیم کا اسلوب بھی روایتی۔ مگر بعد سائنسی دور (post-scientific era) میں یہ صورتِ حال بدل گئی۔ اب یہ ہوا کہ جدید تعلیم مسلمانوں کا ذہن سائنسی انداز میں سوچنے لگا۔ مگر اسلام کی نمائندگی کرنے والے لوگ بدستور قدیم روایتی انداز میں اسلام کو پیش کر رہے تھے۔ قدیم روایتی اسلوب، جدید سائنسی ذہن کو ایڈریس کرنے میں ناکام رہا۔ قدیم اسلوب اور جدید ذہن کے درمیان یہی فکری بُعد (intellectual gap) مذکورہ مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ مسئلے کی نوعیت کی اس دریافت کے بعد میں نے اپنی زندگی کا یہ مشن بنایا کہ مجھے اسلام کی تعلیمات کو دوبارہ عصری اسلوب میں پیش کرنا ہے، تاکہ آج کا ذہن اسلام کی صداقت پر مطمئن ہو سکے۔ ڈاکٹر رفیع الدین کی کتاب قرآن اور علم جدید میں صرف مسئلہ بتایا گیا تھا۔ میں نے اس مسئلے کے حل کے طور پر ایک جامع کتاب تیار کی۔ یہ کتاب اردو زبان میں علم جدید کا چیلنج کے نام سے پہلی بار ۱۹۶۶ میں چھپی۔ بعد کو یہ کتاب مذہب اور جدید چیلنج کے نام شائع ہوئی ۔ یہ کتاب عربی زبان میں الاسلام یتحدّی کے نام سے شائع کی گئی ہے اور انگریزی میں God Arises کے نام سے۔ اسی طرح دوسری کئی زبانوں میں اس کے ترجمے شائع کیے گیے ۔ اس کے بعد میں نے اس کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا۔ میری تقریباً تمام تحریریں اور تقریریں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی موضوع سے تعلق رکھتی ہیں۔ میری تمام سرگرمیوں کو اسی ایک عنوان کے تحت سمجھا جاسکتا ہے۔ دعوت کے دو محاذ اسلام میں ایک کام وہ ہے جس کو اصلاحِ امت کہا جاتا ہے۔ اور دوسرا کام وہ ہے جس کے لیے دعوت یا تبلیغ کے الفاظ آئے ہیں۔ اصلاحِ امت ایک داخلی کام ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page