Al-Risala · February 2006 · page 42

دعوتِ سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۲

ایک درج جن حکمرانوں کو دعوتی خطوط لکھے اور اُنھیں اپنے سفیروں کے ساتھ متعلقہ حکمرانوں کی طرف روانہ کیا۔ ان حکمرانوں میں سے کچھ نے آپ کے مکتوب کا مثبت جواب دیا اور کچھ نے ان کو پڑھنے کے بعد منفی رویہ اختیار کیا۔ اس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے (ملاحظہ ہو، سیرت ابن کثیر، جلد ۳) اس روایت سے دعوتی تحریک کا پیغمبرانہ ماڈل معلوم ہوتا ہے۔ یعنی دعوتی مہم کا تین مرحلوں سے گزر کر اپنی تکمیلی منزل تک پہنچنا۔

ا۔ کسی بندہ خدا پر حقیقت کا کھلنا، اس کا سچائی کو مکمل طور پر دریافت کرنا۔ اس طرح ایک عارف یا باخبر انسان کا وجود میں آنا۔

۲۔ پھر یہ انسان دوسرے کاموں کے علاوہ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معمولی جدوجہد کے ذریعے افراد کی ایک ٹیم بناتا ہے۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہیں۔ ان کے اندر مشنری اسپرٹ کمال درجے میں موجود ہوتی ہے۔ وہ گویا عارفین حق کا منتخب گروہ ہوتا ہے۔ ۳۔ اس کے بعد یہ ٹیم اس پیغام کو لے کر آگے بڑھتی ہے اور کمیونیکیشن کے ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اُس کو تمام انسانوں تک پہنچادیتی ہے۔

سہ گانہ مرحلے کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ مسیحی ماڈل اور محمدی ماڈل دونوں اسی کی تائید کرتے ہیں۔ حضرت مسیح کے زمانے میں اسی ترتیب سے کام ہوا۔ اور پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں بھی یہی تاریخ دہرائی گئی۔ یعنی ایک فرد سے کام کا آغاز ، اور پھر ایک ٹیم کا بننا، اس کے بعد دعوت کی عمومی توسیع ۔ یہ ترتیب دعوتی کام کی فطری ترتیب ہے۔ اس لیے یہی ترتیب بعد کے زمانے میں بھی اس کام کے لیے باقی رہے گی۔

الرسالہ مشن کے مستقبل کے بارے میں میں اکثر سوچتا تھا۔ ۱۲ مئی ۲۰۰۵ کی صبح کو میں اس موضوع پر غور وفکر کر رہا تھا کہ اچانک مجھ پر یہ بات منکشف ہوئی کہ یہ دعوتی مشن بھی اسی فطری ترتیب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ عمل فطرت کے زیر اثر پہلے سے جاری تھا۔ مگر مئی ۲۰۰۵ میں اس واقعے کو میں نے شعوری طور پر دریافت کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues

Printed page